سعودی صحافی کے قتل کے مزید آڈیو اور ویڈیو شواہد حاصل کرلیے گئے

سعودی قونصل خانے میں قتل سے متعلق آڈیو اور ویڈیو شکل کی میں شواہد حاصل کر لئے
ترک سیکورٹی ذرائع نے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے سعودی حکومت کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں قتل سے متعلق آڈیو اور ویڈیو شکل کی میں شواہد حاصل کر لئے ہیں
تاریخ شائع کریں : شنبه ۲۱ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۱۸
موضوع نمبر: 367956
 
ترک سیکورٹی ذرائع نے چند روز قبل لاپتہ ہونے والے سعودی حکومت کے مخالف صحافی جمال خاشقجی کے سعودی قونصل خانے میں قتل سے متعلق آڈیو اور ویڈیو شکل کی میں شواہد حاصل کر لئے ہیں

ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطبق ترکی کے سیکورٹی ذرائع نے اعلان کیا ہے کہ سعودی عرب کے لاپتہ ہونے والے صحافی جمال خاشقجی نے استنبول میں سعودی قونصل خانے میں جانے سے قبل اپنی گھڑی میں آواز ریکارڈ کرنے والا بٹن آن کر دیا تھا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے بھی اعلان کیا ہے ترکی کے اعلیٰ تفتیشی حکام نے استنبول کے سعودی قونصل خانے میں شاہ سلمان کے سخت ناقد جلا وطن صحافی جمال خاشقجی کے قتل ہونے کے آڈیو اور ویڈیو شواہد حاصل کرلیے ہیں۔دوسری جانب موجودہ سعودی حکومت کے مخالف سعودی شہزادے خالد بن فرحان آل سعود نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی حکومت نے شاہی خاندان کے ان پانچ اراکین کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے جو جمال خاشقجی کے اغوا کی مخالفت کر رہے تھے۔انھوں نے جرمنی میں ٹوئٹ کیا ہے کہ سعودی حکومت بیرون ملک مقیم حکومت مخالفین کو دو طرفہ نشست کی دعوت دے کر انھیں اغوا کر رہی ہے۔شہزادہ خالد بن فرحان آل سعود نے کہا کہ جمال خاشقجی کے اغوا سے دس روز قبل سعودی حکومت خاشقجی کو اغوا کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھی۔ انھوں نے کہا کہ سعودی اہلکار کروڑوں ڈالر کی مالی مدد کے وعدے کے ساتھ ان سے بھی اس بات کے خواہاں تھے کہ وہ مصر میں سعودی سفارتی عہدیداروں سے جا کر ملاقات کریں۔مذکورہ سعودی شہزادے نے جو  محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد ملک سے نکل کر جرمنی چلے گئے اور وہیں بس گئے، یہ بھی ٹوئٹ کیا ہے کہ جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی عرب کا کردار ثابت ہونے پر وہ سعودی عوام سے موجودہ حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے کی اپیل کریں گے۔دریں اثنا امریکی کانگریس کے کئی اراکین نے سعودی حکومت کے مخالف معروف صحافی جمال خاشقجی کے لاپتہ ہونے کے بارے میں ٹرمپ حکومت کے کمزور موقف پر کڑی تنقید کی ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی سینیٹ کے بھی تیئیس اراکین نے اس سلسلے میں ٹرمپ حکومت کے رویے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ان امریکی سینیٹروں نے تاکید کی ہے کہ اس سلسلے میں واشنگٹن حکومت کی جانب سے سخت بیان جاری کئے جانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بات کا پیغام جا سکے کہ امریکی حکومت اس معاملے میں کوئی سودا نہیں کرے گی۔امریکی اراکین کانگریس نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ حکومت، خاشقجی کے قتل کیس کے بارے میں تحقیقات کے لئے ایک ایسی حکومت پر بھروسہ کر رہی ہے جو اپنے مخالفین کا صفایا کر رہی ہے۔جمال خاشقجی موجودہ سعودی حکمرانوں کے سخت ناقد سمجھے جاتے ہیں اور شاہی خاندان پر مسلسل تنقید کے باعث انہیں جلا وطن بھی ہونا پڑا تھا۔ وہ واشنگٹن پوسٹ میں باقاعدگی سے کالم لکھتے رہے ہیں اور کچھ ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے گئے تھے۔ان کے ہمراہ سعودی قونصل خانے جانے والی اُن کی منگیتر نے میڈیا اور پولیس کو دو اکتوبر کو بتایا تھا کہ دوپہر سے قونصل خانے کے اندر داخل ہونے والے جمال خاشقجی رات گئے واپس نہیں لوٹے جب کہ قونصل خانے کا عملہ ان کی موجودگی کے حوالے سے کوئی تعاون نہیں کر رہا ہے۔سعودی صحافی کے لاپتہ ہوجانے پر واشنگٹن پوسٹ نے احتجاجاً اُن کا کالم خالی چھوڑ دیا تھا تاکہ دنیا کو اس معاملے کی حساسیت اور سنگینی کا اندازہ ہو۔ ترک  حکام نے بھی ابتدائی تحقیقات کے بعد ہی صحافی کے قونصل خانے میں قتل ہوجانے کا خدشہ ظاہر کیا تھا۔اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں نے لاپتہ صحافی کے ساتھ کسی بھی طرح کی خطرناک کارروائی کا ذمہ دار سعودی عرب کو ٹھہرایا تھا۔
Share/Save/Bookmark