سعودی وحشیانہ بمباری کا کرارا جواب، متعدد فوجی ٹھکانے تباہ

یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس نے فوجی مراکز اور ٹھکانوں پر حملے کیے
یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں کو بدر ایک میزائل سے نشانہ بنایا ہے
تاریخ شائع کریں : جمعه ۲۰ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۱:۳۱
موضوع نمبر: 367583
 
امریکی سعودی اتحاد کی وحشیانہ جارحیت کے جواب میں یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے اس اتحاد کے فوجی مراکز اور ٹھکانوں پر حملے کرکے اس کو بھاری نقصان پہنچایا ہے۔

صنعا میں دفاعی اور عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ یمنی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جنوبی سعودی عرب کے صوبے عسیر میں سعودی اتحاد کے ٹھکانوں کو بدر ایک میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔یمنی فوج اور عوامی رضاکاروں نے عسیر اور صعدہ کے درمیان واقع سرحدی علاقے مجازہ کی بلندیوں کو سعودی اتحاد کے قبضے سے آزاد کرالیا ہے۔المسیرہ ٹیلی ویژن نے بھی اپنی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ صوبہ تعز کے جنگی علاقے میں یمنی فوج کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگ سے ٹکرا کر سعودی اتحاد کی فوجی گاڑی تباہ ہوگئی اور اس میں سوار تمام فوجی ہلاک ہوگئے۔دوسری جانب یمنی فوج نے اتحادیوں کے ایک جنگی جہاز کو سمندر میں اور دو ڈرون طیاروں کو نشانہ بناکر تباہ کردیا ہے۔یمن کی تحریک انصاراللہ کے قریبی ذرائع کے مطابق، اس حملے کے نتیجے میں یمنی ساحل میں سعودی اتحاد کی جنگی کشتی مکمل طور پر تباہ ہوگئی اور اس میں موجود تمام فوجی اہلکار ہلاک ہوگئے.سعودی اتحاد نے اب تک اس رپورٹ پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔دوسری جانب بدھ کے روز جیزان کے علاقے جبل الشبکہ میں یمن کی فوج اور عوامی رضاکار فورسز نے سعودی اتحاد کے دو جاسوس طیاروں کو نشانہ بناکر تباہ کردیا۔گزشتہ دنوں یمن کی سرکاری فوج کے فضائی دفاعی سسٹم نے سعودی عرب سے ملحقہ علاقوں میں تین سعودی جاسوس طیاروں کو مار گرایا تھا۔ساڑھے تین سال سے جاری سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے وحشیانہ حملوں میں دسیوں ہزار یمنی شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں جبکہ دسیوں لاکھ یمنی باشندے اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں۔اسی دوران یمن کی وزرات صحت نے بتایا ہے کہ سعودی جارحیت کے آغاز سے اب تک تین ہزار خواتین بھی شہید ہوچکی ہیں۔یونیسف کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق سعودی جارحیت کے نتیجے میں پانچ ہزار یمنی بچے شہید یا جسمانی اعضا سے محروم ہوچکے ہیں۔یمن میں بچوں کی آبادی گیارہ ملین کے قریب بتائی جاتی اور تقریبا تمام بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں عالمی اداروں کی فوری امداد کی ضرورت ہے۔
Share/Save/Bookmark