صدام کی بعثی حکومت نے عالمی سامراج کی مدد

کمانڈربریگیڈیئر جنرل سید محمد باقرزاده نے کہا ہے
ایرانی لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کی کمیٹی کے کمانڈرنے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ ایران پر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کی دستاویزات کو شہداء کے جسد خاکی کو ڈھونڈنے کے لئے ایران کے سپرد کرے.
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۱۷ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۳۸
موضوع نمبر: 366726
 
ایرانی لاپتہ ہونے والے افراد کی تلاش کی کمیٹی کے کمانڈرنے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ امریکہ ایران پر آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کی دستاویزات کو شہداء کے جسد خاکی کو ڈھونڈنے کے لئے ایران کے سپرد کرے.

 ایرانی لاپتہ ہونے والے افراد کو تلاش کرنے کی کمیٹی کے کمانڈربریگیڈیئر جنرل سید محمد باقرزاده نے کہا ہے کہ عراق کی سرزمین میں دفاع مقدس کے گمنام شہدا کی لاشوں کی صحیح جگہ تلاش کرنے کے لیے امریکہ کو ایران اور عراق کی جنگ کے زمانے میں امریکیوں کے ذریعے عراق سے پینٹاگون میں منتقل ہونے والی دستاویزات کو واپس لانا چاہیے.انہوں نے کہا کہ فی الحال ہم عراق میں چار ہزار دیگر شہیدوں کی لاشیں تلاش کر رہے ہیں اور بعض اوقات ہمیں 40 سے 100 مربع کیلو میٹرکی مساحت پر کام کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں اسلامی انقلاب کو ناکام بنانے کیلئے عراق میں صدام کی بعثی حکومت نے عالمی سامراج کی مدد و حمایت سے 22 ستمبر 1980 کو ایران پر جنگ مسلط کی جو 8 سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں دو لاکھ بائیس ہزار ایرانی شہید اور کم سے کم ساڑھے پانچ لاکھ زخمی ہوئے۔
Share/Save/Bookmark