یمنی کرنسی کی قدر میں کمی، سعودی عرب کا یمن کے خلاف نیا حربہ

مغربی ایشیا کے سیاسی امور ماہر تجزیہ نگار "حسن ہانی زادہ " نے کہا
سعودی اتحاد کو جنگی میدان میں خاصہ نقصان اٹھانا پڑا ہے ایسی لیے اس نے یمن کو اقتصادی دباو کا شکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۵ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۰:۰۷
موضوع نمبر: 365884
 
یمنی کرنسی کی قدر میں کمی، سعودی عرب کا یمن کے خلاف نیا حربہ

مغربی ایشیا کے سیاسی امور ماہر تجزیہ نگار "حسن ہانی زادہ " نے تقریب کے خبرنگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ، سعودی عرب نے یمن کی سرزمین پر قبضہ کرنے لے لیے نیا حربے کا استعمال شروع کیا ہے جس میں اس نے یمن کے معدنی وسائل کے ماہرین ، یمنی فوج کے افسران اور مفتیوں کو ڈالر کے زریعہ خرید لیا ہے تاکہ یمنی سرزمین کو سعودی عرب کے ساتھ ملحق کرسکے۔

انہوں نے کہا گذشتہ تین سالوں میں سعودی اتحاد کو جنگی میدان میں خاصہ نقصان اٹھانا پڑا ہے ایسی لیے اس نے یمن کو اقتصادی دباو کا شکار بنانے کا فیصلہ کیا ہے اور ایسی امر کے لیے اس نے یمن کے علاقہ "حضرموت" سے بڑے پیمانہ پر تیل کی چوری کرکے یمنی عوام کو بھاری اقتصادی نقصان پہچایا ہے۔

سعودی عرب یمنی کرنسی کی چھپائی ، اور یمنی تیل کی ترسیل کو روک کر یمن کو اقتصادی بحران کا شکار کرنا چاہتا ہے اس بات کی سگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ خود "منصور ہادی" یمن کے سابق صدر نے بھی سعودی عرب کے اس قسم کے اقدامات پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب سعودی عرب اپنے نوکروں کی نظر میں بھی گر چکا ہے۔
Share/Save/Bookmark