یمن کے خلاف سعودی عرب کو اسلحے کی ترسیل کی مذمت

یمن کے خاتمے اور سعودی اتحاد کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے
یورپی پارلیمینٹ نے جنگ یمن کے خلاف سعودی یمن جاری رکھنے اور عام شہریوں سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے محاصرہ یمن کے خاتمے اور سعودی اتحاد کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۳ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۳۱
موضوع نمبر: 365249
 
یورپی پارلیمینٹ نے جنگ یمن کے خلاف سعودی یمن جاری رکھنے اور عام شہریوں سے متعلق عالمی قوانین کی خلاف ورزیوں کی مذمت کرتے ہوئے محاصرہ یمن کے خاتمے اور سعودی اتحاد کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اسٹراسبرگ میں ہونے والے یورپی پارلیمینٹ کے اجلاس میں جنگ یمن کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے سعودی اتحاد میں شامل ملکوں کو اسلحہ اور دوسرے آلات خاص طور سے انٹرنیٹ کو کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی فروخت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
یورپی پارلیمنٹ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کے سیاسی گروہوں کے درمیان مذاکرات ہی امن کے قیام کا واحد راستہ ہے۔
یورپی پارلیمینٹ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یورپ کے ایک اہم ملک جرمنی نے سعودی عرب کو فوجی مقاصد میں استعمال ہونے والا جی پی ایس سسٹم فروخت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
یورپی پارلیمنٹ کے ارکان نے سن دو ہزار سترہ میں بھی یورپی ملکوں سے اپیل کی تھی کہ وہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے باعث سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کو اسلحے کی فراہمی بند کر دیں۔
یمن میں سعودی حکومت اور اس کے اتحادیوں کے وسیع جنگی جرائم کےارتکاب کے باوجود برطانیہ، فرانس، اٹلی، اسپین اور جرمنی نے سعودی عرب کے ساتھ اسحلے کی فروخت کے معاہدے کیے ہیں۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی حالیہ  رپورٹ میں سعودی اتحاد میں شامل ملکوں سے کہا ہے کہ وہ جنگوں سے متعلق عالمی قوانین اور ضابطوں کی پابندی کریں۔
مذکورہ کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ اس نے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کی ایک خفیہ فہرست اقوام متحدہ کو پیش کر دی ہے۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے ماہرین نے اٹھائیس اگست کو اپنی ایک رپورٹ میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ان کے آلہ کاروں پر یمن میں جنگی جرائم کے ارتکاب کا براہ راست الزام عائد کیا تھا۔
تحقیقاتی کمیٹی کی سینیر رکن رونیٹا ونٹر نے نو اگست کو یمن کے صوبے صعدہ کے شہر ضحیان میں یمن کے اسکولی بچوں کی بس پر حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کو اسلحے کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
 اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمیشن کے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق یمن میں سعودی عرب کی فوجی مداخلت اور جارحیت کے نتیجے میں سترہ ہزار یمنی شہری مارے جا چکے ہیں جن میں زیادہ تعداد بے گناہ عورتوں اور بچوں کی ہے۔
 سعودی حکومت کی وحشیانہ جارحیت اور  محاصرے کی وجہ سے یمن میں اشیائے خورد و نوش اور دواؤں کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ بچوں کے عالمی ادارے یونیسیف کی رپورٹ کے مطابق یمن میں چار لاکھ بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔
واضح رہے کہ سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت اور علاقے کے بعض اتحادی ملکوں کے ساتھ مل کر مارچ دو ہزار پندرہ سے یمن کو زمینی، فضائی اور سمندری جارحیت کا نشانہ بنا رکھا ہے۔
Share/Save/Bookmark