امریکہ کے پاس عالمی تنہائی سے بچمے کا واحد حل ایٹمی معاہدہ ہے

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے
ایران اور چھے بڑے ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایٹمی معاہدہ طے پایا ہے اور امریکہ کے لئے موجودہ ایٹمی معاہدے سے اچھا اور بہتر کوئی اور معاہدہ ثابت نہیں ہو سکتا۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۲ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۰:۵۵
موضوع نمبر: 364910
 
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ ایران اور چھے بڑے ملکوں کے درمیان مذاکرات کے بعد ایٹمی معاہدہ طے پایا ہے اور امریکہ کے لئے موجودہ ایٹمی معاہدے سے اچھا اور بہتر کوئی اور معاہدہ ثابت نہیں ہو سکتا۔

ایران کے وزی؛ر خارجہ محمد جواد ظریف نے بی بی سی سے گفتگو میں جو بدھ کے روز نشر ہوئی، ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے امریکہ کی تجویز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ ایٹمی معاہدے کے بارے میں مذاکرات کے ماضی اور اس سلسلے میں برسوں کے مذاکرات کے پیش نظر امریکی صدر کو یہ بتائے جانے کی ضرورت ہے کہ امریکہ کے لئے موجودہ ایٹمی معاہدے سے بڑھ کر کوئی اور معاہدہ اچھا واقع نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے ایٹمی معاہدے کے بارے میں برطانیہ کے موقف اور اس سلسلے میں اس ملک کی وزیر اعظم تھریسا میے کی حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یورپ نے سب کی توقع کے مطابق ایٹمی معاہدے کا تحفظ کرنے کی کوشش کی تاہم یورپ کو اپنے سیاسی وعدوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔

محمد جواد ظریف نے تاکید کے ساتھ کہا کہ ایران ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی وعدوں کو عملی جامہ پہنائے جانے کے بارے میں منتظر رہے گا تاہم اس کا مطلب یہ نہیں ہو گا کہ ایران بس صبر ہی کرتا رہے گا۔

اس سے قبل ایران کے وزیر خارجہ نے نیو یارک میں جوہری معاہدے سے متعلق ایک اجلاس میں کہا کہ ایران کسی بھی طور دھونس و دھمکی کو برداشت نہیں کرے گا۔

 ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے وقت سے ہی ایران پر ڈالے جانے والے اقتصادی اور سیاسی دباؤ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے شروع سے دباؤ ڈالنے والے ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیا اور وہ کسی بھی طور دھونس و دھمکی کو برداشت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی غیور قوم نے ہمیشہ ہی دھمکی کا بھر پور جواب دیا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ  نے واشنگٹن کے ساتھ ہر قسم کے مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ  مذاکرات کیلئے قابل اعتماد ملک نہیں ہے۔

محمد جواد ظریف نے جوہری معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی پر کہا کہ ایران ہر مرتبہ امریکہ کے ساتھ از سر نو گفتگو  شروع  نہیں کر سکتا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے آٹھ مئی کو بلاسبب ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کا اعلان کرتے ہوئے ایران کے خلاف پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا اور دعوی کیا کہ وہ ایران کے تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچا دے گا جبکہ ایٹمی معاہدے میں شریک دیگر تمام ملکوں نے اس معاہدے کو باقی رکھنے اور اس پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے اور یورپی یونین کے خارجہ امور کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا ہے کہ یورپ نوبم سے پہلے پہلے اپنا اقتصادی پیکیج اور ایران کے ساتھ مالی دین دین سے متعلق رقم کی ادائیگی کا خصوصی سسٹم کام شروع کردے گا۔
Share/Save/Bookmark