حج کے سیاسی پیغام کو پوری دنیا اسلام تک پہنچائے

رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے کہا
محکمہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے اپنے خطاب میں تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ حج کے سیاسی پیغام کو پوری دنیائے اسلام تک پہنچائے جانے کی ضرورت ہے۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۱۰ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۵۵
موضوع نمبر: 364560
 
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے پیر کے روز محکمہ حج کے عہدیداروں اور کارکنوں سے اپنے خطاب میں تاکید کے ساتھ فرمایا ہے کہ حج کے سیاسی پیغام کو پوری دنیائے اسلام تک پہنچائے جانے کی ضرورت ہے۔

رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ فریضہ حج کی انجام دہی کے لئے ایک خاص موقع و مقام پر مسلمانوں کے اجتماع کے لئے خداوند متعال کا فرمان، مختلف پہلوؤں اور مسلمانوں میں باہمی رابطے کی ضرورت اور امت مسلمہ کے اقتدار کے مظاہرے جیسے اہم سیاسی پیغامات کا حامل ہے۔
آپ نے فرمایا کہ فریضہ حج کے معنوی پہلو کے علاوہ جو غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، تمام حقائق اور اسلامی اہداف کو نمایاں اور ان کے لئے منصوبہ بندی نیز عملی اقدام کی ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ حج کے موقع پر تمام مسلمانوں کے ساتھ رابطے، زائرین خانہ خدا تک اسلامی انقلاب کا پیغام پہنچانا نیز ان سے ہر طرح کے ابہامات اور شبہات کو دور کیا جانا، تمام اسلامی ملکوں کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے رابطوں کے قیام اور ان کی تقویت اور اسی طرح اسلامی فرقوں کے ساتھ بھائی چارہ، حج کے مبارک ایام میں عالم اسلام کے لئے سیاسی و ضروری پیغامات میں شامل ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ حج کو اسلامی جمہوریہ کے لئے باعث عزت افزائی ہونا چاہئے اس لئے حج کے سیاسی پہلوؤں کو ہرگز فراموش نہیں کیا جانا چاہئے اور حج ابراہیمی یعنی اسلامی انقلاب کے بعد کے حج اور اسلامی انقلاب سے قبل کے حج نیز ان ممالک کے حج میں کہ جنھوں نے اسلام کی بنیاد اور اسلامی انقلاب کی مہک محسوس نہیں کی ہے، بہت فرق ہے۔
آپ نے حج کے موقع پر دعائے کمیل کے روح پرور پروگرام کے انعقاد میں سعودی حکومت کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کوششوں اور جدت عمل سے اس طرح کی رکاوٹوں کو دور اور نقصان کا ازالہ کئے جانے کی ضرورت ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے حج کی توسیع کے بہانے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، مولا امیرالمونین حضرت علی علیہ السلام، خلفا اور صدر اسلام کے مجاہدوں سے منسوب مقامات کو مسمارکئے جانے پر شدید تنقید کی اور فرمایا کہ ایسی حالت میں کہ مختلف ممالک اپنے تاریخی مقامات اور عمارتوں کی حفاظت کرتے ہیں اور یہاں تک کہ اپنے ماضی اور اپنی تاریخ کو پرثمر ظاہر کرنے کے لئے جعلی مقامات بنا بیٹھتے ہیں، مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں بہت سے تاریخی نیز اہم دینی و اسلامی مقامات کو ختم کر دیا گیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران کے حج و زیارات کے ادارے اور اس سے متعلقہ اداروں کے لئے ضروری ہے کہ وہ مقدس اسلامی و تاریخی مقامات کے تحفظ اور انھیں تباہی و مسماری سے بچانے کے لئے دیگر اسلامی ملکوں کی حج انتظامیہ کےعہدیداروں  کے ساتھ رابطے برقرار کریں اور اس سلسلے میں اپنی کسی بھی کوشش سے دریغ نہ کریں۔
Share/Save/Bookmark