ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین سسٹم کو دیگر ممالک بھی استعمال کرسکتے ہیں

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا
ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین کی غرض سے یورپ کے وضع کردہ نظام سے دنیا کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ سسٹم صرف یورپی ملکوں تک محدود نہیں ہے۔
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۹ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۹:۲۴
موضوع نمبر: 364191
 
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ دیگر ممالک بھی ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین کے یورپی میکنیزم کو استعمال کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج نے کہا ہے کہ وی پی ایس سسٹم ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو بائی پاس کر دے گا۔

روسی خـبر رساں ایجنسی ریا نوستی کو انٹرویو دیتے ہوئے ایران کے سینیئر ایٹمی مذاکرات کار سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مالیاتی لین دین کی غرض سے یورپ کے وضع کردہ نظام سے دنیا کے دیگر ممالک بھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور یہ سسٹم صرف یورپی ملکوں تک محدود نہیں ہے۔
انہوں کہا کہ توقع ہے کہ ایران اور یورپ کے درمیان مالیاتی میکنیزم امریکی پابندیوں کے نئے مرحلے کے آغاز یعنی چار نومبر سے پہلے پہلے اپنا کام شروع کر دے گا۔
سید عباس عراقچی نے ایرانی تیل کی برآمدات کو صفر تک پہنچانے کی امریکی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اقدامات سے تیل کی عالمی کی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار نے یہ بات زور دے کر کہی کہ خلیج فارس کے تمام ممالک اپنا تیل بیچنا چاہتے ہیں اور دنیا کو اس علاقے کے تیل اور توانائی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے شرکا کے ساتھ مل کر تیل کی فروخت کا دو طرفہ نظام قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور امریکی پابندیوں کو بائی پاس کرنے کے لیے مالیاتی لین دین کے عالمی نظام سوئیفٹ کا متبادل نظام قائم ہونے کا پورا پورا امکان پایا جاتا ہے۔
امریکہ نے ایٹمی معاہدے سے نکلنے کے ساتھ ساتھ ایران کے خلاف پابندیاں دوبارہ عائد کرنا شروع کر دی ہیں اور وہ دیگر ملکوں کو دھمکیاں دے رہا ہے کہ اگر انہوں نے ایران سے تیل کی خریداری کا سلسلہ جاری رکھا تو انہیں بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
امریکی صدر کے اس اقدام کی نہ صرف دنیا بھر میں مخالفت کی جا رہی ہے بلکہ اس کے یورپی اتحادیوں نے بھی سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
یورپی یونین کے امور خارجہ کی انچارج فیڈریکا موگرینی نے اپنے ایک تازہ بیان میں کہا ہے کہ امریکی مخالفت کے باوجود ایران کے ساتھ اقتصادی لین دین کے یورپی میکنیزم پر نومبر سے پہلے پہلے عملدرآمد شروع ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ وی پی ایس سسٹم کا مقصد امریکی پابندیوں کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی اور اقتصادی تعاون کو جاری رکھنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جوہری توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے نے بارہا اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایران، ایٹمی معاہدے پر پوری طرح سے عمل کر رہا ہے اور انہوں نے نیویارک میں روس، چین، فرانس، برطانیہ اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کو یورپی یونین کے موقف سے پوری طرح آگاہ کر دیا ہے۔
Share/Save/Bookmark