خلیج فارس میں ایرانی بحریہ کا تسلط اور اقتدار

سمندری علاقے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا طاقت کا مظآہرہ
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے سمندری علاقے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے اقدامات اور کارکردگی کے بارے میں نئی معلومات اور ویڈیوز منظر عام آ گئی ہیں۔
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۹ مهر ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۳:۵۱
موضوع نمبر: 363989
 
آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے سمندری علاقے میں ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے اقدامات اور کارکردگی کے بارے میں نئی معلومات اور ویڈیوز منظر عام آ گئی ہیں۔

ایران کےقومی ٹیلی ویژن سے قلب زمین کے نام سے نشر ہونے والی کی دستاویزی فلم میں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے سمندری علاقے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی کارکردگی اور آپریشنز کے مختلف گوشوں کو اجاگر کیا گیا۔

مذکورہ دستاویزی فلم کے ایک حصے میں پہلی بار میرسک نامی کنٹینر بردار بحری جہاز، سپاہ پاسداران کی بحریہ کے ذریعے روکے جانے کی فوٹیج دکھائی گئی ہیں۔ مذکورہ دیوہیکل کنٹینر بردار بحری جہاز، جنوبی پارس فیلڈ کے ایک ٹرمنل سے ٹکرانے کے بعد علاقے سے فرار ہوگیا تھا اور ایران
کی ایک عدالت نے اسے روکنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی حکم کے بعد متعلقہ ایرانی حکام نے مذکور بحری جہاز کو رکنے کا حکم دیا تاہم جہاز کے کیپٹن نے اس پر کوئی توجہ نہیں دی جس کے بعد سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی تیز رفتار جنگی کشتیوں نے اس کا تعاقب کیا اور جنوبی خلیج فارس کی بحری حدود میں اسے روک لیا گیا۔

فلم کے مطابق امریکی بحری جہاز کے کیپٹن نے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی جانب سے روکے جانے سے قبل امریکی اور اتحادیوں سے مدد کی درخواست کردی تھی۔

تھوڑی دیر میں امریکی جنگی طیارے اسلحے سے لدے مذکورہ دیوہیکل کنٹینر بردار بحری جہاز کی مدد کے لیے آ پہنچے لیکن سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی جانب سے دیئے جانے والے سخت انتباہ کے بعد انہیں علاقے کو ترک کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔
مذکورہ امریکی جہاز کو ایران کی ساؤتھ پارس ٹرمنل کو پہنچنے والے نقصانات کی نقد ادائیگی کے بعد جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔
مذکورہ دستاویزی فلم میں پہلی بار خلیج فارس کے علاقے سے گزرنے والے امریکی، برطانوی اور فرانسیسی بحری جہازوں کے سلسلے میں ایران کی فضائیہ اور بحریہ کی جانب سے ذریعے رصد کیے جانے کی تصاویر دکھائی گئی ہیں۔

فلم کے ایک حصے میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی تیز رفتار بوٹوں کو امریکی بحری بیڑے یوایس ایس روز ویلٹ کے قریب پہنچ کر اسے خبردار کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ اگر اس نے ایران کی سمندری حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس کا فوری اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

جولائی دو ہزار سترہ میں سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کی کشتیوں کا امریکی بحری بیڑے یو ایس ایس نیمٹز سے آمنا سامنا ہوا تھا۔

جبکہ بارہ جنوری دو ہزار سولہ کو سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے جوانوں نے دس امریکی میرین فوجیوں کو اس وقت گرفتار کر لیا تھا جب انک ی پیٹرول بوٹ خلیج فارس میں ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوگئی تھی۔ مذکورہ میرین کو غلطی ثابت ہونے اور معافی مانگے کے بعد رہا کر دیا گیا تھا۔

ایک موقع پر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی جنگی بوٹوں نے فرانس کے تباہ کن بحری جہاز کو اس کے عرشے سے پرواز کرنے والے ہیلی کاپٹر کی بابت انتباہ دیا جس کے بعد فرانسیسی بحریہ نے مذکورہ ہیلی کاپٹر کو عرشے پر فوری واپس بلا لیا۔

فلم کے ایک اور حصے میں دکھایا گیا ہے کہ جہاز رانی کے عالمی قوانین کی پاسداری پر مجبور ہونے والا ایک فرانسیسی بحری جہاز ایرانی پرچم نصب کر کے جزیرہ ابو موسی کے شمالی آبنائے سے عبور کر رہا ہے۔
مذکورہ فرانسیسی بحری جہاز اس علاقے سے گزرنا چاہتا تھا اور اس علاقے پر ایران کے حق حکمرانی کے پیش نظر سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اسے ایرانی پرچم نصب کرنے اور بصورت دیگر علاقے میں اسی راستے پر واپس جانے کا حکم دیا تھا جہاں سے وہ آیا ہے۔
فرانسیسی تباہ کن بحری جہاز کو ایران کے حق حکمرانی کو تسلیم اور ایرانی پرچم نصب کرنے کے بعد علاقے سے گزرنے کی اجاز دے دی گئی۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر ایڈمرل تنگسیری نے مذکورہ دستاویزی فلم میں واضح کیا ہے کہ جب تک ایران کی سلامتی قائم اور ہمارا تیل، اس علاقے سے برآمد ہوتا رہے گا کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی لیکن اگر ایران کا تیل علاقے برآمد نہیں ہوا تو پھر کسی کا بھی تیل اس علاقے سے باہر نہیں جاسکے گا۔
Share/Save/Bookmark