شام پر اسرائیلی حملے اب بند ہونا چاہیے

حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے
شب عاشور کے موقع پر اپنے سالانہ خطاب میں سید حسن نصراللہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مزاحمت کے محور کو شام پر اسرائیل کے پے در پے حملوں کا جائزہ لے کر اس کے تدارک کا مناسب راستہ تلاش کرنا ہو گا۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۲۹ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۱۲
موضوع نمبر: 360590
 
حزب اللہ لبنان کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا ہے کہ شام پر اسرائیلی حملوں کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور یہ اب بند ہونا چاہئیں۔

 شب عاشور کے موقع پر اپنے سالانہ خطاب میں سید حسن نصراللہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ مزاحمت کے محور کو شام پر اسرائیل کے پے در پے حملوں کا جائزہ  لے کر اس کے تدارک کا مناسب راستہ تلاش کرنا ہو گا۔
سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیلی حملوں کا شام میں امریکی سعودی اور صیہونی سازش کی ناکامی سے براہ راست تعلق ہے۔  انہوں نے کہا کہ اسرائیل اس بات کی کوشش کر رہا ہے کہ شام میزائیل ٹیکنالوجی تک نہ پنہچ پائے۔
 حزب اللہ کے سربراہ نے واضح کیا کہ جب تک شامی قیادت چاہے گی ان کی تنظیم کے جوان، شام میں موجود رہیں گے۔
 سید حسن نصراللہ نے دہشت گرد گروہ داعش کے بارے میں کہا کہ امریکہ نے داعشی عناصر کو شمال مشرقی شام میں باقی رکھا ہے جبکہ بعض داعشی عناصر کو وہ افغانستان، پاکستان، مصر اور یمن بھیج رہا ہے۔  حزب اللہ لبنان کے سربراہ نے بعض عرب ملکوں کی پالیسیوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض عرب اور اسلامی ملکوں کا حکمراں، امریکی سفیر ہے۔
 انہوں نے کہا کہ صورتحال یہ ہے کہ بعض عرب ملکوں میں، کھلی امریکی مداخلت کی مذمت کرنے کے بھی جرائت نہیں ہے۔  سید حسن نصراللہ نے کہا کہ حزب اللہ امریکہ کو دشمن سمجھتی ہے اور جبکہ خطے کے بعض ممالک امریکہ کو اپنا دوست اور اتحادی سمجھتے ہیں۔
Share/Save/Bookmark