یورپ امریکہ کے سامنے شجاعت کا مظارہ کرے

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا ٹھوس فیصلہ کریں اور ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی کے نقصانات کا ازالہ کریں۔
تاریخ شائع کریں : شنبه ۲۴ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۲۲
موضوع نمبر: 359430
 
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ جانے کا ٹھوس فیصلہ کریں اور ایٹمی معاہدے سے واشنگٹن کی علیحدگی کے نقصانات کا ازالہ کریں۔

جرمن جریدے اشپیگل سے گفتگو کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کا کہنا تھا کہ یورپ کو امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ جانے یا سرتسلیم خم کر دینے میں سے کسی ایک راستے کا انتخاب کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر یورپی یونین نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی پر کمزور موقف اختیار کرنے کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے ایران کی جانب سے اپنائے جانے والے موقف کے ممکنہ نتائج کا بھی منتظر رہنا چاہیے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ یورپ اور ایٹمی معاہدے پر دستخط کرنے والے دیگر ممالک کو ایسی تدابیر اپنانا ہوں گی جن کے ذریعے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کو غیر موثر بنایا جا سکتا ہو۔
انہوں نے بڑے واضح الفاظ میں کہا کہ ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی پر یورپ کے کمزور موقف کی صورت میں ایران میں یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافے کا امکان پوری طرح موجود ہے۔
دوسری جانب خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ سید کمال خرازی نے بھی یورپی ملکوں پر زور دیا ہے کہ وہ ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت فراہم کریں۔
ڈاکٹر سید کمال خرازی نے جو چین کے دورے پر ہیں شنگھائی انٹرنیشنل اسٹڈیز انسٹی ٹیوٹ کے صدر یانگ ژے مین سے ہونے والی ملاقات میں جوہری معاہدے سے امریکیہ کی علیحدگی کے بعد اس معاہدے کو جاری رکھنے پر  زودیا اور کہا کہ  یورپ کے ساتھ مذاکرات کے کئی دور ہوئے تاہم اس معاہدے میں ایران کے حقوق کی ضمانت سے ہی یہ معاہدہ برقرار رہ سکتا ہے۔
ڈاکٹر سید کمال خرازی نے چین اور روس کے ساتھ ایران کے تعلقات کواہمیت کا حامل قرار دیا۔
اس ملاقات میں یانگ ژئے مین نے بھی ایران اور چین کے تعلقات کی اہمیت پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے تجربوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
ایرانی اور چینی عہدیداروں نے اس ملاقات میں دہشت گردی اور علاقائی سلامتی کے بارے میں بھی ایک دوسرے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔
ایران کی اسٹریٹیجک تعلقات کونسل سربراہ نے شنگھائی انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ مشرق وسطی کے ماہرین سے بھی ملاقات کی اور ان کے سوالوں کے جوابات بھی دیئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ مئی کو ایران پر جوہری معاہدے کے خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے اس معاہدے سے نکلنے کا اعلان کر دیا تھا۔
دنیا بھر میں امریکی صدر کے اس فیصلے پر تنقید کی گئی تھی اور چین و روس کے ساتھ ساتھ جوہری معاہدے میں شامل یورپی ملکوں نے بھی اس معاہدے کو باقی رکھنے کا اعلان کیا تھا۔
 ایران اور یورپ نے امریکی کی علیحدگی کے بعد ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے مذاکرات کا آغاز کر رکھا ہے اور یورپ نے اس بات کا عہد کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تہران کو ایک جامع پیکیج پیش کرے گا۔
 ایران نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ اسے امید ہے کہ یورپ کا پیش کردہ پیکیج ایٹمی معاہدے کے تحت ایران کی توقعات پر پورا اترے گا۔
Share/Save/Bookmark