صہیونی فوج کی واپسی مارچ پر ایک بار پھر اندھا دھند فائرنگ

تین فلسطینیوں کو شہید اور تیس دیگر کو زخمی کر دیا۔
فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطینیوں کے پچسویں واپسی مارچ کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر فائرنگ کی اور ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔
تاریخ شائع کریں : شنبه ۲۴ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۱۷
موضوع نمبر: 359428
 
صیہونی فوج نے فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر ایک بار پھر اندھا دھند فائرنگ کر کے تین فلسطینیوں کو شہید اور تیس دیگر کو زخمی کر دیا۔

فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق غاصب صیہونی حکومت کے فوجیوں نے فلسطینیوں کے پچسویں واپسی مارچ کو جارحیت کا نشانہ بناتے ہوئے ان پر فائرنگ کی اور ان کے خلاف آنسو گیس کا استعمال کیا۔

قدس کی غاصب اور جابر صیہونی حکومت کی بربریت کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور جمعے کو ایک بار پھر پرامن واپسی مارچ کے مظاہرین پر صیہونی جارحیت کے نتیجے میں 3 فلسطینی شہید اور 30 فلسطینی زخمی ہوگئے، شہید ہونے والوں میں ایک 14 سالہ نوجوان بھی شامل ہے۔

تیس مارچ کو یوم الارض کے موقع کئے جانے والا واپسی مارچ کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کا مقصد غزہ کا محاصرہ ختم کرانے کے علاوہ فلسطینیوں کی وطن واپسی کے حق پر تاکید کرنا ہے۔

گذشتہ 25 ہفتوں سے اسرائیلی فوج کی غزہ کے شہریوں پر بہیمانہ فائرنگ کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 181 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ 19 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج فلسطینیوں کے پرامن مظاہرے کو کچلنے کے لئے براہ راست گولیوں کا استعمال کر رہی ہے لیکن اس کے باوجود نہ فقط عالمی ادارے خاموش ہیں بلکہ امریکہ کھل کر اسرائیل کی حمایت کر رہا ہے۔

دوسری جانب رام اللہ کے علاقے نعلین کے فلسطینیوں نے خان الاحمر کے فلسطینیوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے وسیع پیمانے پر مظاہرہ کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق صیہونی فوجیوں نے وادی الاحمر کے شہریوں کو جارحیت کا نشانہ بنایا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت، وادی الاحمر اور خان الاحمر کے لوگوں کو بھی بے گھر کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے ہے یہی وجہ ہے کہ صیہونی فوجی ان علاقوں کے فلسطینیوں کو مسلسل جارحیت کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

صیہونی حکومت کی عدالت نے خان الاحمر قصبے کو تباہ کرنے کے صیہونی حکومت کے فیصلے کے خلاف اپیل کو مسترد کرتے ہوئے صیہونی فوجیوں سے کہا ہےکہ وہ سات روز کے اندر اس قصبے کو تباہ کردیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ، یورپی یونین اور سرگرم عمل فلسطینیوں نے اس قصبے کو تباہ کرنے سے متعلق صیہونی حکومت کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اس قسم کے اقدام کو ممکنہ فلسطینی ملک کے قیام کی راہ میں نئی رکاوٹ پیدا کئے جانے سے تعبیر کیا تھا۔
Share/Save/Bookmark