سعودی جارحیت نے یمن کو بچوں کے لیے جہنم بنا دیا ہے

قوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کا کہنا ہے
اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری تنازع نے ملک کو بچوں کے لیے جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۲۳ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۳۸
موضوع نمبر: 359131
 
قوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری تنازع نے ملک کو بچوں کے لیے جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ایجنسی نے رائٹرز کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ کے بین الاقوامی ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کا کہنا ہے کہ یمن میں جاری تنازع نے ملک کو بچوں کے لیے جہنم میں تبدیل کردیا ہے۔ یمن کے دارالحکومت صنعا میں ہسپتال کے غذائی قلت وارڈ میں ڈاکٹر انتہائی کمزور چھوٹے بچوں کا وزن کرتے ہیں، جن کے جسم پر گوشت نہیں اور ہڈیاں نمایاں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق سبین ہسپتال کے وارڈ میں زیر علاج 20 بچوں میں سے اکثر کی عمر 2 سال سے کم ہے، یہ بچے بھی ان ہزاروں میں ہیں جو گزشتہ تین برس سے جاری جنگ میں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں۔ یمن میں تعینات یونیسیف کی نمائندہ میرٹزیل ریلانو کے مطابق یمن کے ایک کروڑ 10 لاکھ سے زائد بچے اور ملکی آبادی کے 18برس سے کم عمر 80 فیصد بچے غذا کی کمی، بیماریوں اور بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی وجہ سے شدید خطرات کا شکار ہیں۔

خیال رہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے مشترکہ اتحاد نے سال 2015 میں یمنی عوام کے ارادوں کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔

2 کروڑ 80 لاکھ افراد پر مشتمل یمنی آبادی جنگ کے باعث بدترین انسانی بحران کا شکار ہے ، جہاں 84 لاکھ افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں جبکہ 2 کروڑ 20 لاکھ افراد امداد پر انحصار کرتے ہیں۔
Share/Save/Bookmark