سعودی عرب یمن میں لیزر گائیڈڈ بم استعمال نہیں کرے گا

سعودی عرب لیزر گائیڈڈ بم حاصل کرنے انتھک کوشش کر رہا ہے۔
ہسپانوی وزیر خارجہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت میڈرڈ حکومت 400 لیزر گائیڈڈ بم ریاض حکومت کو دینے کے لیے تیار ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۲۳ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۳۱
موضوع نمبر: 359112
 
سعودی عرب لیزر گائیڈڈ بم حاصل کرنے انتھک کوشش کر رہا ہے۔

خبر رساں ادارے کے مطابق ہسپانوی وزیر خارجہ جوزپ بوریل نے کہا ہے کہ 2015 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت میڈرڈ حکومت 400 لیزر گائیڈڈ بم ریاض حکومت کو دینے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے وزرا اور متعلقہ سرکاری حکام اس معاملے پر کام کر رہے تھے اور ہتھیار فروخت کے مجاز کمیشن نے تین بار اس معاہدے پر نظرثانی بھی کی۔ اسپین کے وزیر خارجہ سے جب سوال کیا گیا کہ کیا انہیں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ مذکورہ بم یمن میں شہریوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں ہوں گے تو انہوں نے گول مول جواب دیتے ہوئے کہا کہ لیزر گائیڈڈ بم اپنے ہدف کو انتہائی درست نشانہ بناتا ہے۔

واضح رہے کہ اسپین میں بننے والی نئی حکومت نے بموں کی فروخت کا معاہدہ منسوخ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے پیشگی ادا کی گئی بموں کی رقم واپس کرنے پرغورشروع کیا تھا۔

ہسپانوی میڈیا کے مطابق سعودی عرب کی یمن سے جنگ پر اسپین کی نئی حکومت نے تشویش کا اظہار بھی کیا تھا۔

واضح رہے کہ یمن پرسعودی عرب کی گزشتہ کئی برسوں سے جارحیت کے نتیجے میں ہزاروں یمنی شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے لیکن اس کے باوجود ابھی تک سعودی عرب اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوا ہے۔
Share/Save/Bookmark