کراچی سے داعش کا نیٹ ورک گرفتار

2 اہم کمانڈروں کو پہلے مارا جاچکا ہے جبکہ دیگر 4 مفرور ہیں
سی آئی اے کے ڈی آئی جی نے انکشاف کیا کہ داعش کے اسی نیٹ ورک کے 2 اہم کمانڈروں کو پہلے مارا جاچکا ہے جبکہ دیگر 4 مفرور ہیں۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۲۲ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۳۵
موضوع نمبر: 358905
 
سی آئی اے کے ڈی آئی جی نے انکشاف کیا کہ داعش کے اسی نیٹ ورک کے 2 اہم کمانڈروں کو پہلے مارا جاچکا ہے جبکہ دیگر 4 مفرور ہیں۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سی آئی اے کے ڈی آئی جی ڈاکٹر امین یوسف زئی نے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کی موجودگی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں موجود اس نیٹ ورک سے منسلک اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ میں ملوث 3 مشتبہ انتہا پسندوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جن کے قبضے سے ایک کروڑ روپے اور اسلحہ بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

سی آئی اے کے ڈی آئی جی نے انکشاف کیا کہ داعش کے اسی نیٹ ورک کے 2 اہم کمانڈروں کو پہلے مارا جاچکا ہے جبکہ دیگر 4 مفرور ہیں۔

ڈاکٹر امین یوسف زئی نے کہا کہ داعش کے دہشت گرد اغوا برائے تاوان کے علاوہ شیعہ مسلمانوں کے 4 افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں بھی ملوث تھے اور اسی طرح منگھوپیر میں ایک پولیس اہلکار اور ‘پولیس کے پیغام رساں’ 2 افراد کو بھی قتل کیا۔

یاد رہے کہ پاکستان میں داعش کے سربراہ مفتی کفایت اللہ کو سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے علاقے قلات میں ایک مقابلے میں ہلاک کر دیا تھا جبکہ آئی ایس بلوچستان کے سربراہ سلمان بادینی کو کوئٹہ میں ایک مقابلے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

سی آئی اے کے سربراہ ڈاکٹر امین یوسف زئی نے کہا کہ داعش کے 4 دیگر اراکین اکبر، مقبول، یوسف اور دماغ جان مفرور ہیں اور ان کی گرفتاری کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
Share/Save/Bookmark