یمن میں سعودی جارحیت میں مکمل مدد فراہم کی ہے

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے کہا
امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے یمن پر جارحیت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مکمل ساتھ دینے کا اعتراف کیا ہے۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۲۲ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۲۳
موضوع نمبر: 358893
 
امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے یمن پر جارحیت میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کا مکمل ساتھ دینے کا اعتراف کیا ہے۔

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے کانگریس کے اراکین کو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہاتھوں ، ہتھیاروں کی فروخت کے لئے راضی کرنے کے مقصد سے کہا ہے کہ ان دونوں ممالک نے وعدہ کیا ہے کہ یمن کی جنگ میں عام شہریوں کی ہلاکتوں کو کم کیا جائے گا۔

الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے یمن کی جنگ کو امریکہ کی قومی سلامتی کی ترجیحات میں قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو امریکی ہتھیاروں کی اشد ضرورت ہے۔

دنیا کے اکثر ممالک اور عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ سعودی اتحاد کے جنگی طیاروں اور میزائلی حملوں میں وسیع پیمانے پر خواتین اور بچوں کی شہادتیں واقع ہوئی ہیں ۔

یمن کی عوامی تحریک انصاراللہ کے ترجمان محمد عبدالسلام نے بھی امریکی وزیر خارجہ کے بیان پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یمن کے بارے میں پمپیو کا بیان جارح ملکوں کی حیوانیت کا دفاع اور اقوام متحدہ کے ماہرین کی رپورٹ کے منافی ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ نے یمن پر جارحیت میں اپنے ملک کے تعاون کا اعتراف کر کے اقوام متحدہ کے اصول اور بین الاقوامی قوانین کو پیروں تلے روندنے کا کھلا ثبوت پیش کیا ہے۔

مائیک پمپیو کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آیا ہے کہ یمنی فوج کے ترجمان نے جارح سعودی اتحاد کے فوجی ہیڈکوارٹر میں امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جوزف ووٹل کی موجودگی کی خبر دی ہے۔

یمنی فوج کے ترجمان شرف لقمان نے اعلان کیا ہے کہ یمن پر جارحیت میں جارح سعودی اتحاد کو اپنے مقاصد میں کامیابی نہ ملنے کے بعد امریکی وزارت جنگ پینٹاگون نے امریکی فوج کی سینٹرل کمان کے سربراہ جوزف ووٹل کو عدن روانہ کیا ہے تاکہ وہ یمن کے مختلف صوبوں خاص طور سے مغربی ساحل کے علاقوں میں فوجی کارروائی کی کمان سنبھالیں۔

شرف لقمان نے کہا کہ یمن میں امریکی اقدام اس بات کو بھی واضح کرتا ہے کہ جارحیت کی کمان سعودی و اماراتی آلہ کاروں کے ہاتھ سے نکل چکی ہے اور اب جارحیت کے اصلی و حقیقی عامل امریکہ کے ہاتھ میں چلی گئی ہے۔

دریں اثنا سعودی عرب کے شاہی خاندان کی ایک معروف شخصیت مضاوی الرشید نے کہا ہے کہ سعودی حکومت امریکہ اور برطانیہ کی حمایت کے بغیر یمن میں جنگ کرنے کی توانائی نہیں رکھتی۔
لندن میں سعودی شہزادے مضاوی الرشید نے کہا ہے کہ سی آئی اے کے ذرائع‏ نے تاکید کی ہے کہ سعودی عرب، امریکہ و برطانیہ کی حمایت کے بغیر یمن میں جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔

انھوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب دنیائے عرب میں جمہوریت کے قیام کے ہر اقدام کو کچل دیتا ہے اور اس نے نے یمن کو کمزور کرنے کے مقصد سے ہی اس ملک پر حملہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ سعودی عرب و متحدہ عرب امارات، امریکہ و برطانیہ کی حمایت سے مارچ دو ہزار پندرہ سے غریب اسلامی و عرب ملک، یمن کو وحشیانہ جارحیت کا نشانہ بنا رہے ہیں جس میں اب تک دسیوں ہزار یمنی عام شہری شہید و زخمی اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں اور اس ملک کا بنیادی ڈھانچہ بالکل تباہ ہو گیا ہے تاہم سعودی اتحاد پھر بھی اب تک یمنی عوام کی استقامت کی بدولت اپنا کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔
Share/Save/Bookmark