اہلبیت (ع) کی پیروی دنیا اور آخرت میں نجات کا باعث ہے

ایران کے صوبہ بوشہر میں اہلسنت کی فتواء کمیٹی کے سربراہ " شیخ خلیل افرا" نے کہا
امام حسین(ع) نے اس زمانے کے جابر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے قیام کیا اور ہمیں رہتی دنیا تک کے لیے درس دیا کہ ظالم اور جابر حکمرانوں کے ظلم کے سامنے قیام کریں۔
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۱ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۵۹
موضوع نمبر: 358646
 
اہلبیت (ع) کی پیروی دنیا اور آخرت میں نجات کا باعث ہے

ایران کے صوبہ بوشہر میں اہلسنت کی فتواء کمیٹی کے سربراہ " شیخ خلیل افرا" نے تقریب کے خبرنگار سے گفتگو کے دوران کہا، امام حسین ابن علی (ع) کا مدینہ سے روانگی کا مہم ترین مقصد امت میں امر بالمعروف اور نھی عن المنکر تھا ، امام عالی مقام (ع) نے فرمایا "میں اپنے جد رسول اللہ (ص) اور اپنے بابا علی مرتضی (ع) کی سنت کے احیاء کے لیے مدینہ سے نکلا ہوں"، ہم اس درس کو درس آزادگی اور آزادی مانتے ہیں۔

امام جمعہ اہلسنت نے مزید کہا، اس روایت کی بنیاد پر  کہ " حسن و حسین علیھما السلام سرداران جنت ہیں اور ایسی طرح حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ زہرا (س) کے تربیت یافتہ ہیں۔

امام حسین (ع) نے اپنے جد رسول اللہ (ص) کی سنت کو زندہ کرنے کے لیے اموی حکمرانوں کے سامنے انقلاب برپا کیا تاکہ نبی مکرم (ص) کی فراموش شدہ سنت کو زندہ کیا جاسکے۔

انہوں نے کہا، امام حسین(ع) نے اس زمانے کے جابر اور ظالم حکمرانوں کے سامنے قیام کیا اور ہمیں رہتی دنیا تک کے لیے درس دیا کہ ظالم اور جابر حکمرانوں کے ظلم کے سامنے قیام کریں۔

امام حسین (ع) نے هیهَاتَ مِنَّا الذِّلَّة کا نعرہ بلند کیا اور قیامت تک کے لوگوں کو ذلت کے سامنے سر نا جھکانے کا پیغام دیا۔

مسلمانوں کا فریضہ ہے کہ رہتی دنیا تک ظلم کے سامنے ڈٹ جائے اور آخری سانس تک ظلم و ستم کا مقابہ کریں۔

انہوں نے کہا، امام حسین (ع) نے معاویہ کی موت کی بعد یزید کے خلیفہ بنے پر اسلام کو خطر میں پایا اور یزید کے اسلام دشمن افکار کے سامنے قیام کیا۔

اسلام کے دفاع کے لیے امام عالی مقام (ع) نے رسول (ص) کے بہترین اصحاب اور اپنے انصار کی قربانی کا نزرانہ پیش کیا۔ تاکہ قرآن اور سنت کو دوبارہ زندہ کیا جاسکے۔

انہوں نے آخر میں کہا اہلبیت (ع) کی سیرت ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور ان کی پیروی اور اطاعت ہم پر لازم ہیں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوسکیں۔
Share/Save/Bookmark