تنازعات اور موسمياتی شدت كے باعث دنيا ميں غذائی قلت کا خدشہ

اقوام متحدہ نے متنبہ كيا ہے كہ تنازعات اور موسمياتی شدت كے باعث دنيا بھر ميں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔
اقوام متحدہ نے متنبہ كيا ہے كہ تنازعات اور موسمياتی شدت كے باعث دنيا بھر ميں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۱ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۳۳
موضوع نمبر: 358630
 
اقوام متحدہ نے متنبہ كيا ہے كہ تنازعات اور موسمياتی شدت كے باعث دنيا بھر ميں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ اقوام متحدہ نے متنبہ كيا ہے كہ تنازعات اور موسمياتی شدت كے باعث دنيا بھر ميں غذائی قلت بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کے اہم اداروں کی سالانہ رپورٹ ميں کہا گہا ہے كہ تنازعات اور موسمياتی شدت کے باعث دنيا بھر ميں مسلسل 3 سال سے  غذائی قلت بڑھ ر ہی ہے جس كے باعث 2030 تک دنيا کو خوراک کی کمی سے نجات دلانے کی کوششيں بھی شديد خطرے سے دوچارہورہی ہيں۔ رپورٹ کے مطابق 2017 ميں خوراک سے محرومی کا شکار افراد کی تعداد بڑھ کر82 کروڑ 10 لاکھ ہو گئی جو 2016 ميں 80 کروڑ 40 لاکھ تھی ۔ يہ رپورٹ جاری کرنے والے اقوام متحدہ کے اداروں ميں عالمی ادارہ برائے خوراک وزراعت، زرعی ترقی کا بين الاقوامی ادارہ، ورلڈ فوڈ پروگرام ، يونيسيف اور عالمی ادارہ صحت شامل ہيں۔

ورلڈ فوڈ پروگرام کے سربراہ ڈيوڈ بيسلی نے رپورٹ ميں تسليم کيا ہے کہ دنيا بھر ميں تنازعات اور موسمياتی شدت کے باعث بھوک اور غذائی قلت ميں اضافہ ہو رہا ہے۔ خوراک وزراعت كے عالمی ادارہ كی سينئر اقتصادی ماہر سينڈی ہولمن نے بھی کہا ہے كہ تين سال ميں دنيا بھر ميں خوراک کی قلت اضافہ ہوا ہے۔
Share/Save/Bookmark