امام حسین (ع) کی ذات سرچشمہ فیض اور برکت ہے

سندج شہر میں اہلسنت مدارس کے استاد " ماموستا اقبال بھمنی" نے کہا
امام حسین (ع) نے اپنے سفر کا مقصد امر باالمعرف اور نھی عن المنکر بیان کیا تھا کیوں کے آپ (ع) نے رسول اکرم (ص) کے دور اور خلفہ راشدین کے دور کو بھی درک کیا تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ یزید جیسا فاسق و فاجر بعنوان جانشین پیغمبر(ص) اور خلیفہ المسلمین حاکم بن جائے اور امام عالی مقام خاموش رہ جائے۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۰ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۵۹
موضوع نمبر: 357961
 
امام حسین (ع) کی ذات سرچشمہ فیض اور برکت ہے

سندج شہر میں اہلسنت مدارس کے استاد " ماموستا اقبال بھمنی" نے تقریب کے خبر نگار سے گفتگو کرتے ہوئے ایام عزا کے موقع پر تمام عالم اسلام کی خدمت میں تسلیت پیش کی اور کہا، امام حسین (ع) کا مقام اہلسنت کی نزدیک انتہائی محترم ہے اور رسول اکرم (ص) کی حدیث جس میں آپ نے فرمایا" الحسین منی و انا من حسین" اور ایک اور حدیث میں رسول اکرم (ص) نے فرمایا " اے اللہ ہر اس شخص کو دوست رکھ جو حسین(ع) کو دوست رکھے اور ہر اس شخص کو دشمن جان جو حسین (ع) سے دشمنی رکھے"۔

انہوں نے کہا، کردستان کی عوام امام شافعی کی پیروکار ہیں اور امام شافعی اہلبیت (ع) سے خاص لگاو رکھتے تھے ایسی بنیاد پر ہم اہلسنت امام حسین(ع) کو انسانوں کے لیے اللہ تعالی کے فیض اور برکت کا وسیلہ مانتے ہیں۔

امام حسین (ع) نے اپنے سفر کا مقصد امر باالمعرف اور نھی عن المنکر بیان کیا تھا کیوں کے آپ (ع) نے رسول اکرم (ص) کے دور اور خلفہ راشدین کے دور کو بھی درک کیا تھا تو یہ کیسے ممکن تھا کہ یزید جیسا فاسق و فاجر بعنوان جانشین پیغمبر(ص) اور خلیفہ المسلمین حاکم بن جائے اور امام عالی مقام خاموش رہ جائے۔

انہوں نے آخر میں کہا ،اللہ ہمیں توفیق اور بصیرت دے تاکہ اس زمانے کے یزیدوں اور طاغوت کو پہچان سکے اور اسکا مقابلہ کرے۔
Share/Save/Bookmark