شامی فوج نے ملک کا 92 فیصد علاقہ دہشت گردوں سے پاک کردیا

اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے
شامی فوج اور اس کی اتحادی قوتوں نے ملک کے بانوے فی صد علاقے کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے اور ان علاقوں میں رواں سال سے تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئیں۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۰ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۵۴
موضوع نمبر: 357942
 
شامی فوج اور اس کی اتحادی قوتوں نے ملک کے بانوے فی صد علاقے کو امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا ہے اور ان علاقوں میں رواں سال سے تعلیمی سرگرمیاں بھی شروع کر دی گئیں۔

دوسری جانب ترکی نے ایک بار پھر دہشت گردوں کے آخری گڑھ ادلب میں شامی فوج کے آپریشن کی مخالفت کی ہے۔ شامی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ادلب کو دہشت گردوں سے آزاد کرانے کے لیے لازمی منصوبہ بندی کر لی ہے۔

امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضے سے شام کے بانوے فی صد علاقے کی آزادی کے بعد شام کی وزارت تعلیم نے اعلان کیا ہے کہ چار ملین سے زائد شامی بچے رواں تعلیمی کے سال کے آغاز میں اسکولوں میں داخل کرائے گئے ہیں۔

ایک اور اطلاع کے مطابق شامی فوج نے دہشت گردوں کے آخری گڑھ ادلب کو آزاد کرانے کے منصوبے کے تحت بڑی تعداد میں فوجی اور سامان حرب شمالی حلب کے محاذ پر متنقل کر دیا۔

دمشق میں عسکری اور دفاعی ذرائع نے بتایا ہے کہ شامی فوج کے جوانوں نے شمالی حلب کے علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے قریب اپنے مورچے مستحکم کر لیے ہیں اور غصن الزیتون آپریشن شروع کرنے کے لیے پوری طرح آمادہ ہے۔

ادھر اطلاعات ہیں کہ دہشت گرد گروہ احرارالشام کا ایک اہم سرغنہ خالد الحسن معروف بہ ابوالولید کرناز، صوبہ حماہ کے نواحی شہر کرکات میں ہلاک ہو گیا۔

دہشت گرد گروہوں نے حماہ میں واقع فوجی ایئر بیس پر اطراف کے علاقوں طامنہ اور کفر زیتا سے دو راکٹ فائر کیے تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

درایں اثنا ترکی کے وزیر دفاع خلوصی آکار نے صوبہ ادلب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شامی فوج کے فضائی حملے اور گولہ باری کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ترکی کے وزیر دفاع نے ادلب سمیت شام کے سب ہی شہروں میں دہشت گردی کے نتائج کی جانب کوئی اشارہ کیے بغیر دعوی کیا کہ ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی کاروائی میں عام شہریوں کے مارے جانے کا اندیشہ ہے۔

اس سے پہلے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بھی ادلب صوبے میں تکفیری دہشت گردوں گروہوں کے خلاف شامی فوج کے مجوزہ آپریشن کو تشویشناک قرار دیا تھا۔

ترکی کی سرحد کے قریب واقع شام کا صوبہ ادلب بدستور امریکہ اور خطے کے بعض ملکوں کے حمایت یافتہ دہشت گردوں کے قبضے میں ہے اور حکومت شام اسے آزاد کرانے کا اعلان کر چکی ہے۔
مغربی ممالک اور خاص طور سے امریکہ عام شہرویوں کے ممکنہ قتل عام کا واویلا مچا کر ادلب پر شامی فوج کے حملے کی مخالفت کر رہا ہے جس کا مقصد ادلب کو آزاد ہونے سے روکنا اور وہاں موجود دہشت گردوں کو نجات دلانا ہے۔
Share/Save/Bookmark