ٹرمپ دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی فکر میں ہیں

یورپ نے ایک بار پھر جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے سمیت عالمی معاہدوں سے رو گردانی کر کے کثیر جہتی رجحان کے اصولوں کو پامال کیا ہے اور وہ دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی فکر میں ہیں۔
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۸ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۳۲
موضوع نمبر: 357287
 
یورپ نے ایک بار پھر جامع ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

 فرانس کے وزیر خارجہ جان ایوے لے دریان نے یورو نیوز ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایٹمی معاہدے سمیت عالمی معاہدوں سے رو گردانی کر کے کثیر جہتی رجحان کے اصولوں کو پامال کیا ہے اور وہ دنیا پر اپنی اجارہ داری قائم کرنے کی فکر میں ہیں۔
 فرانس کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ٹرمپ اپنے دور صدارت کے آغاز سے ہی بائی پولر ازم کے تمام ضابطوں اور قوانین کو پامال کرتے چلے آرہے ہیں۔
 جان ایوے لے دریان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ، فرسٹ امریکہ کا نعرہ لگا کر وائٹ ہاؤس پہنچے ہیں اور اب وہ ایک قدم اور آگے بڑھاتے ہوئے صرف امریکہ کا نعرہ لگانے کی فکر میں ہیں ایک ایسا امریکہ جو سب کے ساتھ اقتدار کی جنگ میں مصروف ہے اور ہر قسم کے مذاکرات میں صرف اپنی برتری پر زور دیتا ہے۔  
 فرانس کے وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اب یورپ کو اپنے قوانین بدلنا ہوں گے تاکہ امریکہ کے مقابلے میں بائی پولر ازم کا نیا محاذ تشکیل پا سکے۔
 فرانس کے وزیر خزانہ برونو لومر نے بھی اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ بات کسی طور قبول نہیں کی جاسکتی کہ امریکہ دنیا کا معاشی چوکیدار بن کر بیٹھ جائے۔
 ادھر روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخا رووا نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کا ملک ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے لیے دیگر فریقوں کے ساتھ تعاون کا سلسلہ جاری رکھے گا۔
 انہوں نے کہا کہ ایٹمی توانائی کے عالمی ادارے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل یوکیا آمانو نے ایک بار پھر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان نے مزید کہا کہ آئی اے ای کی رپورٹوں سے یہ بھی ثابت ہو گیا ہے کہ ایران نے ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے تمام وعدے پورے کر دیئے ہیں۔
دریں اثنا اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب دی متری پولانسکی نے ایٹمی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی کے معاملے کا سلامتی کونسل میں جائزہ لیے جانے کی ضرورت پر تاکید کی ہے۔
 دی میتری پولانسکی نے کا کہنا تھا کہ ایران سے متعلق معاملات کا صرف و صرف سلامتی کونسل کی قرارداد بائیس اکتیس کے تحت ہی جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
 دوسری جانب ایران اور یورپ نے پچھلے چند ہفتوں سے ایٹمی معاہدے کو باقی رکھنے کے بارے میں دوطرفہ بات چیت کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے اور یورپ نے ایران کے خلاف امریکی پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع پیکج پیش کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
 اسلامی جمہوریہ ایران نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ یورپ کی جانب سے پیش کیے جانے والے پیکج میں ایرانی عوام کے مفادات کا پورا پورا دھیان رکھا جانا چاہیے۔
Share/Save/Bookmark