صدر پوتین کی رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای سے ملاقات

صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گزشتہ روز تہران میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ شام میں بحران پر قابو پانے کے حوالے سے ایران اور روس کے درمیان تعاون مثالی ہے، لہذا ہم چاہتے ہیں اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان بھی تعاون کو مزید فروغ ملے.
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۷ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۲۱
موضوع نمبر: 356996
 
رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے گزشتہ روز تہران میں روس کے صدر ولادیمیر پوتین کے ساتھ ہونے والی ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ شام میں بحران پر قابو پانے کے حوالے سے ایران اور روس کے درمیان تعاون مثالی ہے، لہذا ہم چاہتے ہیں اسی طرح دونوں ممالک کے درمیان بھی تعاون کو مزید فروغ ملے.

رہبرانقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے عالمی معاملات پر ایران اور روس کے تعاون کے فروغ پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ امریکہ، دنیا کے لئے خطرہ ہے اور ایران اور روس اس خطرے کا مل کر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں. انہوں نے فرمایا کہ امریکی عزائم کی روک تھام کے سلسلے میں ایران اور روس مل کر تعاون کرسکتے ہیں، کیونکہ امریکہ آج دنیا کے لئے ایک خطرہ بنا ہوا ہے لہذا اس خطرے سے نمٹنے کے لئے تہران ماسکو تعاون اہم ہے.

رہبر انقلاب اسلامی نے مزید فرمایا کہ شام میں امریکیوں کو صحیح معنوں میں شکست ملی ہے اور وہ اپنے اہداف تک نہ پہنچ سکے، شامی مسئلہ امریکیوں کو قابو کرنے کے لئے ایک اچھا تجربہ تھا.

انہوں نے فرمایا کہ امریکہ کی جانب سے ایران، روس اور ترکی پر عائد پابندیوں نے ایک سنہری موقع فراہم کیا ہے جس سے تینوں ممالک اجتماعی طور پر امریکی عزائم کا مقابلہ کرسکتے ہیں.قائد انقلاب نے اس بات پر زور دیا کہ ایران اور روس کو سیاسی اور معاشی تعاون کو بڑھانے کے ساتھ تہران کے سہ فریقی اجلاس میں طے پانے والے فیصلوں پر بھی سنجیدگی سے عمل کرنا ہوگا.

حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایران جوہری معاہدے سے متعلق فرمایا کہ ایران نے اپنے تمام وعدوں پر عمل کیا ہے، لیکن یورپ نے اپنی ذمے داری نہیں نبھائی اور یہ ناقابل قبول ہے.انہوں نے جوہری معاہدے کے حوالے سے روسی صدر کے مؤقف کو تعمیری قرار دیتے ہوئے مزید فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران جوہری معاہدے سے متعلق ایک ایسا مؤقف اپنائے گا جو قوم کی عزت اور ملکی مفاد کے مطابق ہو.

رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ گزشتہ 40 سال سے اسلامی انقلاب کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن اس عرصے میں ایران کا اسلامی انقلاب کئی گنا زیادہ مضبوط ہوا ہے اور ایران کی  یہی استقامت اور پائمردی امریکہ کو لگام دینے کی ایک کامیاب مثال ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے علاقائی مسائل سے متعلق روسی کردار کا حوالہ دیتے ہوئے یمن کی ابتر صورتحال پر روشنی ڈالی جہاں سعودی جارحیت کے ذریعے نہتے عوام کا قتل عام کیا جارہا ہے، انہوں نے فرمایا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب کو یمن پر جارحیت کرکے کچھ نہیں ملے گا اور نہ ہی وہ یمن کی بہادر قوم کا سر جھکا سکے گا.

اس ملاقات میں روس کے صدر نے بعض ممالک کی جانب سے جوہری معاہدے پر قائم نہ رہنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حکام نے بے جا اقدامات کی وجہ سے صورتحال کو خراب کیا اور یورپی ممالک امریکہ سے قربت اور وابستگی کی وجہ سے امریکہ کے تابعدار ہیں اگر چہ وہ یہ کہتے ہیں کہ وہ جوہری معاہدے کے تحفظ کیلئے کوشش کر رہے ہیں۔
Share/Save/Bookmark