تہران کا سہ ملکی اجلاس دہشت گردوں کو جھکنے پر مجبور کردے گا

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ تہران میں ایران، روس اور ترکی کا سربراہی اجلاس جنگ پر سفارتکاری اور سیاسی عمل کی کامیابی اور شامی عوام کے مقابلے میں دہشت گردوں کو جھکنے پر مجبور کرنے کا بہترین موقع ہے۔
تاریخ شائع کریں : جمعه ۱۶ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۲۱
موضوع نمبر: 356648
 
ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ تہران میں ایران، روس اور ترکی کا سربراہی اجلاس جنگ پر سفارتکاری اور سیاسی عمل کی کامیابی اور شامی عوام کے مقابلے میں دہشت گردوں کو جھکنے پر مجبور کرنے کا بہترین موقع ہے۔

تہران میں ایران، روس اور ترکی کے صدور کا اہم اجلاس جمعے کو منعقد ہو رہا ہے۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کہا ہے کہ ایران، روس اور ترکی کا سربراہی اجلاس آستانہ امن کے عمل سے موسوم سیاسی عمل کے دائرے میں تینوں ملکوں کے اعلی حکام کے درمیان جاری صلاح و مشورے کا ایک اہم اقدام ہے جو دو طرفہ اور کثیرجانبہ نیز علاقائی و بین الاقوامی مسائل میں ہم آہنگی اور یکجہتی پیدا کرنے کا بھی بہترین موقع ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے تہران اجلاس کا اصل مقصد بحران شام کا بنیادی اور سیاسی حل قرار دیا اور کہا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران ایران، روس اور ترکی کے درمیان اسٹریٹیجک تعاون دہشت گردی کے خلاف مہم اور تکفیری دہشت گردوں کے خلاف اور اسی طرح علاقے میں امن کے قیام نیز شامی پناہ گزینوں کی وطن واپسی میں تقدیر ساز کردار کا باعث بنا ہے۔

بہرام قاسمی نے اسی طرح امریکہ کی جاہ طلبی اور غیر منطقی بالادستی کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ایران، روس اور ترکی نے امریکہ کی خودسرانہ پالیسیوں کو مسترد کیا اور پھر ان ممالک کو مختلف قسم کی پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا تاہم تہران اجلاس، امریکہ کی ظالمانہ اور غیر منصفانہ پابندیوں کے مقابلے میں ان تینوں ملکوں کے درمیان ہم آہنگی اور یکجہتی کا باعث بن سکتا ہے۔

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے تاکید کے ساتھ کہا ایران، روس اور ترکی کو بیرونی منھ زور طاقتوں کی جانب سے پیدا کئے جانے والے ایک جیسے مسائل و مشکلات کا سامنا ہے اور اس وقت ان تینوں ہی ممالک کے لئے دو طرفہ، تین طرفہ اور چند جانبہ تعاون و مفاہمت ایک بنیادی ضرورت میں تبدیل ہو گئی ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح افغانستان کے درالحکومت کابل کے مغربی علاقے میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکوں کی شدید مذمت کی اور افغانستان کی حکومت اور قوم نیز دہشت گردی کے شکار افراد کے اہل خانہ اور لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا۔

کابل کے مغرب میں بدھ کے روز ہونے والے دو دہشت گردانہ بم دھماکوں میں دو نامہ نگاروں سمیت بائیس افراد جاں بحق اور ستّر دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ان دونوں دھماکوں کی ذمہ درای داعش دہشت گرد گروہ نے قبول کی ہے۔

حالیہ مہینوں کے دوران افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ حملوں اور بم دھماکوں کے واقعات میں خاصا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے بدامنی بڑھتی جا رہی ہے اور اس صورت حال پر افغان عوام نے شدید احتجاج بھی کیا ہے۔واضح رہے کہ افغانستان میں اس قسم کے بیشتر واقعات کی ذمہ داری داعش اور طالبان کی جانب سے قبول کی جاتی رہی ہے۔
Share/Save/Bookmark