امام خمینی (رہ) ابوالاعلی مودودی کو امت کے لیے افتخار قرار دیا

" ابو الاعلی مودودی" کی برسی پر ایک تحیر لکھی جس میں انہوں مولانا مودودی سے متعلق کہا۔
امام خمینی (رہ) نے ان کی وفات پر کچھ اس طرح سے پیغام دیا" مولونا مودودی ایک برجستہ عالم اور ایک دانشمند انسان تھے انہوں نے اسلام کی کافی خدمت کی اور انہوں نے دنیا کے ہر کونے میں السلام کا پیغام پہچایا،اور وہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے رہبر ہی نہیں تھے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے رہبر تھے۔"
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۵ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۸:۴۵
موضوع نمبر: 356473
 
امام خمینی (رہ) ابوالاعلی مودودی کو امت کے لیے افتخار قرار دیا

آیت اللہ اراکی نے اپنی تحریر کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے " ابو الاعلی مودودی" کی برسی پر ایک تحیر لکھی جس میں انہوں مولانا مودودی سے متعلق کہا۔

ابوالاعلی مودودی نے 1979 نے انتقال کیا اور عالم اسلام کو سوگوارچھوٹ گئے مولانا مودودی میں صلاحیت تھی کے اسلام کی عزت و وقار کو بحال کرسکیں۔ان کی سب سے بڑی خصوصیت شیعہ علماء سے نزدیکی تھی۔

امام خمینی (رہ) نے ان کی وفات پر کچھ اس طرح سے پیغام دیا" مولونا مودودی ایک برجستہ عالم اور ایک دانشمند انسان تھے انہوں نے اسلام کی کافی خدمت کی اور انہوں نے دنیا کے ہر کونے میں السلام کا پیغام پہچایا،اور وہ صرف پاکستان کے مسلمانوں کے رہبر ہی نہیں تھے بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے رہبر تھے۔"

جب ملک میں قانون اسلامی کے حوالے سے سوال اٹھائے گئے تو آپ نے کہا کہ ملک میں ہر فرقہ کو ان کے مخصوص احکام کے حوالے سے قانون گذاری کا حق حاصل ہے لیکن ملک کا عمومی قانون ملک کی اکثریت آبادی کے حساب سے ہوگا۔

ایران میں بھی ایسی اثاث پر ملکی قانون تصویب کیا گیا ہے۔
مودودی نے اپنی کتاب " تجدید الدین و احیائہ" میں بیان کیا ہے کہ اسلامی ملک کی خصوصیات کیا ہونی چاہیے۔

مولانا مودودی نے کہا، ایک ایسی شخصیت ہونی چاہیے جو اسلام کو اس کے تمام اعتبار سے نافذ کرے اور احادیث کی روشنی میں یہ شخصیت صرف امام مہدی(ع) کی ذات ہیں۔

مودودی نے جو شرایط رہبری کے لیے بیان کی ہے وہ امام خمینی (رہ) کی بیان کردہ شرائط سے نزدیک ہیں۔اور شہید صدر کی کتاب "خلافت انسان و شہادت انبیاء" میں بیان کی گئی ہے۔
 
Share/Save/Bookmark