امریکی اقدامات دھونس و دھمکی اور غنڈہ گردی کے متاردف ہیں

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے بیان میں کہا
امریکا سلامتی کونسل میں اپنی دائمی رکنیت اور اس کونسل کے موجودہ صدر کے عہدے سے غلط استفادہ کر کے اپنے خودسرانہ فیصلے کو اس عالمی ادارے پر مسلط کرنا چاہتا ہے-
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۵ شهريور ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۱۵
موضوع نمبر: 356458
 
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندہ دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ امریکا بین الاقوامی قوانین کی سب سے زیادہ خلاف ورزی کرنے والے ملک کی حیثیت سے اپنی خودسرانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے سلامتی کونسل کا غلط استعمال کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندہ دفتر نے ایران کے معاملے پر سلامتی کونسل کے آئندہ اجلاس کے بارے میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی کے بیان کے جواب میں کہا ہے کہ امریکا سلامتی کونسل  میں اپنی دائمی رکنیت اور اس کونسل کے موجودہ صدر کے عہدے سے غلط استفادہ کر کے اپنے خودسرانہ فیصلے کو اس عالمی ادارے پر مسلط کرنا چاہتا ہے-

ایران کے نمائندہ دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام زور و زبردستی اور بین الاقوامی تعلقات میں دھونس و دھمکی اور غنڈہ گردی شمار ہوتا ہے-

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل نمائندہ دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کے بارے میں سلامتی کونسل کا اجلاس اقوام متحدہ کے منشور، قوانین اور مقاصد کے منافی ہے اور یہ غیرذمہ دارانہ فیصلہ اقوام متحدہ پر دنیا کے اعتماد اور سلامتی کونسل کی ساکھ کو پہلے سے بھی زیادہ متاثر کرے گا-

اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندہ دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایک ایسے وقت جب فلسطین پر غاصبانہ قبضہ مشرق وسطی میں سبھی تنازعات کی اصل جڑ ہے، امریکا بدستور غاصب صیہونی حکومت اور اس کی پالیسیوں کی حمایت اور اس کی تشدد آمیز پالیسیوں اور اقدامات کی پشتپناہی کر رہا ہے-

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی عوام کے ناقابل انکار حقوق کی بازیابی کے لئے عالمی برادری کی ٹھوس اور بھرپور حمایت کے باوجود امریکا وہ اکیلا ملک ہے جو سرزمین فلسطین پر غاصبانہ قبضے کو ختم کرانے کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے-

ایران کے نمائندہ دفتر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ کی حکومت بین الاقوامی معاہدوں اور اداروں سے نکلنے کے اقدامات انجام دے کر ایک بدنام حکومت بن کر رہ گئی ہے-

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے باوجود ٹرمپ انتظامیہ دوسرے ملکوں پر بین الاقوامی معاہدوں پر عمل نہ کرنے کا الزام لگاتی ہے- اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نکی ہیلی نے کہا ہے کہ آئندہ چھبیس ستمبر کو سلامتی کونسل کا اجلاس امریکا نے بلایا ہے جس کی صدارت ٹرمپ کریں گے اور یہ اجلاس ایران کے بارے میں بلایا گیا ہے-

سلامتی کونسل کا یہ اجلاس بلانے کا فیصلہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جب وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ کے آنے کے بعد ایران کے سلسلے میں امریکا کا رویّہ اور زیادہ مخاصمانہ ہو گیا ہے-

ٹرمپ نے ہر پلیٹ فارم کا استعمال کر کے ایران کو مغربی ایشیا کے علاقے میں بدامنی اور عدم استحکام کا ذمہ دار قرار دینے کی کوشش کی ہے اور وہ ایرانو فوبیا پھیلا کر اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے درپے ہیں-  
Share/Save/Bookmark