فٹ بال ورلڈ کپ اور یمنی مسلمانوں کی نسل کشی

آج پوری دنیا فٹ بال ورلڈ کپ کے بخار میں مبتلا ہے، دنیا بھر سے لاکھوں لوگ فٹ بال میچز دیکھنے کے لئے روس کا رخ کرچکے ہیں
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فٹ بال ورلڈ کپ نہ ہوتا تو کیا یمنی مسلمانوں کا قتل عام رک جاتا؟ اس سوال کا جواب بڑا واضح ہے، اگر یمنی مسلمانوں کا قتل عام مکمل طور پر نہ بھی رکتا لیکن اس میں نمایاں کمی آتی، اس لئے کہ دنیا بھر کے لوگ یمنی مسلمانوں پر امریکی و سعودی ظلم کیخلاف آواز اٹھا رہے تھے اور عالمی سطح پر اٹھنے والی عوامی آواز کبھی بھی ِغیر موثر نہیں ہوتی
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۴ تير ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۷:۳۶
موضوع نمبر: 341158
 
موجودہ دنیا کا سیاسی کلچر غیر معمولی حد تک تبدیل ہوچکا ہے، آج بظاہر کھیل کا میدان نظر آنے والا درحقیقت سیاست کا میدان ہے۔ سیاسی حوالے سے حاوی ممالک نے ہمیشہ کھیل کا سہارا لے کر اپنے سیاسی اہداف کے لئے لاکھوں لوگوں کو قتل کیا ہے۔ آج پوری دنیا فٹ بال ورلڈ کپ کے بخار میں مبتلا ہے، دنیا بھر سے لاکھوں لوگ فٹ بال میچز دیکھنے کے لئے روس کا رخ کرچکے ہیں، لیکن فٹ بال ورلڈ کپ کے اصلی اہداف سے عام لوگوں کو آگاہی نہیں ہے۔ فٹ بال ورلڈ کپ کا اصلی ہدف یمنی مسلمانوں کی نسل کشی سے دنیا کی توجہ ہٹانا ہے۔ آج کل یمن میں صورت حال انتہائی سنگین ہے، یمن کا انفراسٹرکچر تو پہلے ہی تباہ کیا جا چکا ہے، اب یمنی مسلمانوں کی نسل کشی کے لئے ہر طرح کا سنگین اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے، لیکن عالمی میڈیا کے پاس اس ظلم کو دیکھنے کا وقت نہیں ہے، اس لئے یمن میں امریکہ اور اس کے عرب اتحادی ممالک یمن سے مسلمانوں کے وجود کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں کو بے دردی سے مار رہے ہیں۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر فٹ بال ورلڈ کپ نہ ہوتا تو کیا یمنی مسلمانوں کا قتل عام رک جاتا؟ اس سوال کا جواب بڑا واضح ہے، اگر یمنی مسلمانوں کا قتل عام مکمل طور پر نہ بھی رکتا لیکن اس میں نمایاں کمی آتی، اس لئے کہ دنیا بھر کے لوگ یمنی مسلمانوں پر امریکی و سعودی ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے اور عالمی سطح پر اٹھنے والی  عوامی آواز کبھی بھی ِغیر موثر نہیں ہوتی۔ اس حوالے سے بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوسروں ملکوں سے آنے والے مہاجرین کے بچوں کو ان کے والدین سے جدا کرنے کے لئے ظالمانہ حکم دیا تو اس پر امریکہ سمیت پوری دنیا کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا حکم واپس لینا پڑا۔ اسی تناظر میں ہم یمنی مسلمانوں کو دیکھیں تو عالمی ادارے اور عوام امریکہ سمیت سعودی عرب کو خبردار کرچکے تھے کہ یمن میں نہتے لوگوں کے خون سے ہولی نہ کھیلی جائے۔ اسی لئے ان دونوں ممالک پر عالمی دباؤ تھا، جس کی وجہ سے یہ لوگ یمن میں طلم و ستم کو اس طرح جاری نہیں رکھ سکتے تھے، جس طرح یہ چاہتے تھے، اسی لئے یمن سے عالمی برادری سمیت عام لوگوں کی توجہ ہٹانے کے لئے کھیل کا سہارا لیا گیا۔

آج جبکہ میڈیا اور پوری دنیا کے لوگ فٹ بال ورلڈ کپ میں دلچسپی لے رہے ہیں، امریکہ اور سعودی عرب اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے یمن میں خون کی ہولی کھیلنے میں مصروف ہیں، لیکن ان حالات میں بھی وہ لوگ جو جانوروں پر ظلم کے خلاف بھی اپنی بھرپور آواز اٹھاتے ہیں، وہ خاموش نہیں ہیں بلکہ انسانی حقوق کے کام کرنے والے ایسے لوگ ان حالات میں بھی جب پوری دنیا فٹ بال ورلڈ کپ میں مصروف ہے، اپنی آواز اٹھا رہے ہیں اور مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے لوگ اس وقت سوشل میڈیا پر یمن میں جاری مظالم کے خلاف اپنی آواز اٹھا رہے ہیں، ان حالات میں بطور انسان ہر فرد کا فرض ہے کہ یمن میں جاری مظالم پر آواز اٹھا کر اپنے انسان ہونے کا ثبوت دے۔ آپ بھی سوشل میڈیا پر انگلش، اردو، عربی اور فارسی زبانوں میں سے کسی بھی زبان میں یمنی مسلمانوں کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں تو فٹ بال ورلڈ کپ ہش ٹیگ لکھ کر یمنی مسلمانوں کی نسل کشی کے خلاف آواز اٹھائیں۔

تحریر: فاطمہ زہرا
Share/Save/Bookmark