نکی ہیلی کا دورہ بھارت، 4 ممالک امریکہ کا ہدف

فی الحال صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کا بھارت سے دو جمع دو مکالمہ ایک اور مرتبہ التوا کا شکار ہے
پاکستان کے حکمران طبقے کو بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بے وفائی و مخاصمت کا نوٹس لینا چاہئے۔ کب تک ان دونوں ملکوں کو پڑوسی ملک ایران پر ترجیح دیتے رہینگے جبکہ پاکستان کے بہت سارے مسائل کا براہ راست تعلق اس پٹرو ڈالر سے رہا ہے، جو امریکی و مغربی بلاک کے ایجنڈا کے تحت قائم کئے گئے مدارس و نام نہاد جہادی مگر درحقیقت تکفیری گروہوں کی دہشتگردی و انتہاء پسندی کے نیتجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ کیا پاکستان نے روس، چین اور ایران کیساتھ چار ملکی بلاک بنانے کو ایک آئیڈیا کے طور پر سنجیدہ لیا بھی ہے؟! اور اگر ایسا نہیں ہے تو خارجہ و دفاعی امور کے بقراطوں کے پاس موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کا جو پائیدار متبادل آپشن ہے، قوم کو اسی سے آگاہ کر دیں۔
تاریخ شائع کریں : شنبه ۹ تير ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۳:۴۲
موضوع نمبر: 339984
 
امریکی سفیر برائے اقوام متحدہ نکی ہیلی 26 جون کو نیویارک سے بھارت کے دورے کے لئے روانہ ہوئیں۔ 27 اور 28 جون 2018ء کو انہوں نے بھارت کی اعلٰی حکومتی شخصیات، این جی اوز اور مختلف ادیان کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تاریخی و مذہبی مقامات کی سیر کی۔ دو روزہ دورہ بھارت میں جس لب و لہجے میں انہوں نے جو باتیں کیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دورے کا بنیادی مقصد بھارت کو ڈکٹیشن دینا تھا۔ انہوں نے دورہ بھارت کے دوران چار ممالک پاکستان، چین، ایران اور روس پر تنقید کی اور بھارتی حکومت کو بعض ڈکٹیشن براہ راست واضح الفاظ میں اور بعض اشاروں اور بالواسطہ مثالوں سے دی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں کہا کہ اگرچہ یہ ملک بعض حوالوں سے امریکی اتحادی رہا ہے لیکن امریکہ نے پہلے سے زیادہ سختی سے یہ پیغام پاکستان کو بھیجا ہے کہ دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ چین پر الزام لگایا کہ وہ اہم ملک ہونے کے باوجود امریکہ کی طرح جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں پر یقین نہیں رکھتا اس لئے ان وجوہات کی بنیاد پر چین کی جانب سے اس خطے کے ممالک میں قرضوں اور سرمایہ کاری میں توسیع امریکہ سمیت بہت سوں کے لئے تشویش کا باعث ہے۔ انہوں نے چین پر یہ الزام بھی لگایا کہ چین کی جانب سے اپنے عوام کے حقوق کا احترام کرنے اور قانون کی حکمرانی قائم کرنے میں ناکامی کی وجہ سے امریکہ اس سے تعلقات کو محدود کر دے گا۔ یعنی یہ مثالیں بھارت کے لئے بالواسطہ پیغام تھا کیونکہ پاکستان اور چین دونوں کے ساتھ اس کے تنازعات موجود ہیں اور قفے وقفے سے تعلقات میں کشیدگی بھی جاری رہتی ہے۔ اس لئے ان دونوں کے حوالے سے بھارت کو براہ راست ڈکٹیشن کی امریکہ ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا۔

انہوں نے بھارت کو امریکی انتظامیہ کا یہ پیغام پہنچایا ہے کہ جو ملک بھی روس اور ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھے گا، وہ بھی امریکہ کی عائد کردہ ان پابندیوں کی زد میں آئے گا جو امریکہ نے ایران و روس پر لگا رکھی ہیں۔ روس کی انٹیلی جنس کمیونٹی یا دفاعی شعبے کے افراد سے تعلقات پر بھی بھارت کو امریکی پابندیوں کے تحت رگڑا لگایا جائے گا۔ نکی ہیلی نے بھارت کو ایران کے ساتھ تعلقات کم کرنے اور تجارتی تعلقات سے دور رہنے کی ڈکٹیشن بھی دی ہے۔ بھارت خلیج فارس کے ممالک سے تیل خریدتا ہے۔ چونکہ خلیج فارس کے عرب ممالک امریکہ کے اتحادی ہیں اس لئے امریکہ کو اس خرید و فروخت پر کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن ایران پر امریکہ نے پابندیاں لگا رکھی ہیں اور امریکہ ایران کے خلاف بین الاقوامی سطح پر محاذ آرائی کرنے والے بلاک کا قائد ہے، اس لئے وہ بھارت سے بھی یہی چاہتا ہے کہ وہ امریکہ کی ناراضگی، ممکنہ مخاصمانہ اقدامات اور ایران سے تعلقات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرلے۔ بھارت روس سے چھ ارب ڈالر مالیت کا ایس چار سو نامی فضائی دفاعی میزائل نظام کی خریداری کے لئے مذاکرات کر رہا ہے۔ بھارت یہ دفاعی نظام چین کے مقابلے کے لئے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ بھارت کو روس سے دور کرنے کے لئے اسے دفاعی شعبے میں مدد و معاونت کی پیشکش کر رہا ہے، جس میں ڈرون، ایئرکرافٹ کیریئر ٹیکنالوجی، ایف سولہ اور ایف اٹھارہ جنگی طیاروں کی فروخت بھی شامل ہے۔ یعنی بھارت کو ساتھ ہی متبادل انتظامات کا لالچ بھی دے رہا ہے۔

امریکہ کی اس پالیسی کے تحت ہی سعودی عرب نے بھارت کو انرجی کے شعبے میں تیل کی فروخت سے بڑھ کر مدد و معاونت فراہم کرنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ سعودی عرب اور بھارت کے مابین شراکت داری کا ایک معاہدہ ہوا ہے، جس کی مالیت چوالیس ارب ڈالر ہے اور اس خرچے پر بھارتی صوبے مھاراشٹرا کے ساحلی شہر رتناگری میں سعودی آرامکو میگا ریفائنری اور پیٹرو کیمیکلز کمپلیکس لگائے گی۔ یہاں تیل وسیع پیمانے پر ذخیرہ کیا جائے گا۔ اس ڈیولپمنٹ سے یہ سوال ذہن میں ابھرتا ہے کہ کیا امریکی سعودی بلاک بھارت میں یہ ذخیرہ اندوزی کرکے یہاں سے جاپان سمیت دیگر ممالک کو بھی سعودی و خلیجی عرب ممالک کا تیل فروخت کرنے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں؟ جاپان بھی ایرانی تیل کا بڑا خریدار رہا ہے۔ فی الحال اوپیک میں ایرانی تیل کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے سعودی عرب نے مبہم انداز میں اتفاق کیا ہے۔ البتہ امریکہ نے بھی دو مختلف بیانات دیئے ہیں۔ پہلے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ امریکی اتحادی ممالک ایران سے تیل کی خریداری زیرو سطح تک کم کر دیں یعنی بالکل بھی تیل نہ خریدیں اور کسی کو (امریکی پابندیوں سے) مستثنٰی نہیں سمجھا جائے گا۔ اب کہا ہے کہ ایرانی تیل کے خریدار ممالک کے ساتھ (کیس بائی کیس کی بنیاد) پر کوشش کرے گا کہ ان میں سے جتنے زیادہ ممالک ممکن ہوں، انکو نومبر تک ایران سے تیل کی خریداری نہ کرنے پر قائل کرلے۔ یعنی بیان وہی ہے لیکن استثنٰی حاصل نہیں ہوگا والی جو دھمکی تھی، وہ حذف کرلی گئی ہے۔

اطلاعات یہ ہیں کہ جاپان کی کمپنیاں جو ایرانی تیل خریدا کرتی تھیں، وہ امریکہ کی اعلان کردہ 4 نومبر 2018ء کی ڈیڈلائن کو نظر میں رکھتے ہوئے دباؤ میں آچکی ہیں اور سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات سے کارگو منگوانے پر غور کر رہی ہیں، جبکہ ایک کمپنی سعودی عرب اور عراق سے ڈیل کرنے کے موڈ میں ہے۔ اس کے علاوہ مغربی افریقی ممالک اور خود امریکہ سے بھی تیل کی درآمد کے متبادل منصوبے زیر غور ہیں۔ یہ کوئی نئی امریکی سازش نہیں، بش جونیئر کی صدارت کے دور میں قومی سلامتی کی مشیر و بعد ازاں وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس اور اوبامہ کی صدارت کے دور میں وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن کی قیادت میں امریکی حکومت ایران کے تیل کے خریداروں سے یہ شرائط منوا چکی تھیں اور ہیلری کلنٹن کے الفاظ میں صرف ایرانی تیل کی خریداری بلاک کرکے ایران کو 80 بلین ڈالر کا مالی نقصان پہنچایا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران یورپی یونین سے ضمانتیں مانگ رہا ہے۔ اگر یورپی یونین نے ایرانی شرائط نہ مانیں تو ایران بھی نیوکلیئر معاہدے سے باہر ہو جائے گا جبکہ ایرانی شرائط میں سے اہم ترین شرط یہی تھی کہ یورپی یونین ضمانت دے کہ وہ امریکی پابندیوں کے مقابلے میں ایرانی تیل کی فروخت کو ممکن بنائیں گی، خود بھی خریدیں اور دوسروں کو بھی قائل کریں کہ امریکی دباؤ پر ایرانی تیل کی خریداری بند نہ کریں۔

46 سالہ بھارتی نژاد امریکی سفارتکار نکی ہیلی کا دورہ بھارت امریکہ کی اسی سامراجی پالیسی کے تحت ہوا ہے۔ بھارت کو ڈکٹیشن دی جا چکی ہے۔ زبردستی کا عالمی تھانے دار بننے والا امریکہ بھارت کو خطے میں مقامی چوکیدار بنانے کا آسرا دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے فوجی کیڈٹس کا دوسرا بیچ بھارت میں تربیت حاصل کرنے پہنچ چکا ہے۔ امریکی سامراجی بلاک میں شامل مسلمان ممالک میں خلیجی عرب ممالک بھارت کے بھی قریبی دوست بن چکے ہیں اور فائنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں بھی وہ پاکستان کے خلاف اقدامات کی حمایت کرنے لگے ہیں۔ بھارت نے ایک مرتبہ آئی اے ای اے میں امریکی دباؤ پر ایران کے خلاف ووٹ دیا تھا اور تب پاکستان نے ایران کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا تھا۔ نکی ہیلی کے اس دورہ بھارت اور اس دوران کی جانے والی تنقید کے بعد ہونا تو یہ چاہئے کہ روس، چین، پاکستان اور ایران کوئی مشترکہ فورم بناکر ان عزائم و اہداف کا تدارک کریں۔ چین اور روس بھارت کو شنگھائی تعاون تنظیم یا برکس میں بھی قائل کریں کہ امریکی سامراجی ایجنڈا میں چوکیداری کے کردار کو قبول نہ کرے اور تنازعات کو پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کرے۔ 16جولائی کو روسی صدر پیوٹن جب اپنے امریکی ہم منصب ٹرمپ سے سربراہی ملاقات کریں تو وہاں بھی ٹرمپ کو ان احمقانہ اقدامات سے گریز کرنے کی تاکید کریں۔ نکی ہیلی نے ایران کو شمالی کوریا سے تشبیہ دی، لیکن انہیں ایران، پاکستان، روس یا چین کو لیکچر دینے سے پہلے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ کوئی بھی ایسا ملک جو خود نیوکلیئر ہتھیاراستعمال کرکے دو ہنستے بستے جاپانی شہروں ہیروشیما و ناگاساکی پر ایٹم بم برسا کر عام انسانوں کی نسل کشی کرچکا ہو، اس بدبخت وحشی و انسانیت دشمن ملک امریکہ کو نیوکلیئر ایشو پر دوسروں کو لیکچر دینے سے گریز کرنا چاہئے۔

فی الحال صورتحال یہ ہے کہ امریکہ کا بھارت سے دو جمع دو مکالمہ ایک اور مرتبہ التوا کا شکار ہے۔ پہلے ٹرمپ کی شمالی کوریا کے سربراہ مملکت و حکومت کم جونگ ان سے ملاقات کی وجہ سے اور اب پیوٹن سے جو ملاقات ہو رہی ہے، اس کی وجہ سے۔ لہٰذا بھارت کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ امریکہ جو اس پر شمالی کوریا و روس کے سربراہان سے ملاقاتوں و معاملات کو ترجیح دے رہا ہے، اس کی دھمکیوں، بلیک ملینگ اور ڈکٹیشن پر عمل کرنے سے دنیا میں اسکی کیا ساکھ رہ جائے گی؟! ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے حکمران طبقے کو بھی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی بے وفائی و مخاصمت کا نوٹس لینا چاہئے۔ کب تک ان دونوں ملکوں کو پڑوسی ملک ایران پر ترجیح دیتے رہیں گے جبکہ پاکستان کے بہت سارے مسائل کا براہ راست تعلق اس پٹرو ڈالر سے رہا ہے، جو امریکی و مغربی بلاک کے ایجنڈا کے تحت قائم کئے گئے مدارس و نام نہاد جہادی مگر درحقیقت تکفیری گروہوں کی دہشت گردی و انتہاء پسندی کے نیتجے میں پیدا ہوئے ہیں۔ کیا پاکستان نے روس، چین اور ایران کے ساتھ چار ملکی بلاک بنانے کو ایک آئیڈیا کے طور پر سنجیدہ لیا بھی ہے؟! اور اگر ایسا نہیں ہے تو خارجہ و دفاعی امور کے بقراطوں کے پاس موجودہ چیلنجوں سے نمٹنے کا جو پائیدار متبادل آپشن ہے، قوم کو اسی سے آگاہ کر دیں۔

تحریر: عرفان علی
Share/Save/Bookmark