دنیا بھر میں نصف سے زائد بچے غربت، صنفی امتیاز اور جنگ کے اثرات کا شکار

ایک ارب 20 کروڑ بچوں کو لازمی طورپر کسی ایک مسئلے کا سامنا ہے
برطانیہ کے ایک غیر سرکاری ادارے ‘سیو دی چلڈرن’ نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں نصف سے زائد بچے غربت، صنفی امتیاز اور جنگ کے اثرات کا شکار ہیں
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۰ خرداد ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۳:۰۰
موضوع نمبر: 334257
 
برطانیہ کے ایک غیر سرکاری ادارے ‘سیو دی چلڈرن’ نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں نصف سے زائد بچے غربت، صنفی امتیاز اور جنگ کے اثرات کا شکار ہیں۔

الجزیرہ کے مطابق یکم جون ‘بچوں کا عالمی دن’ کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ بعنوان ‘دی مینی فیس آف اکسکلوژن’ میں انکشاف کیا کہ ‘تقریباً 15 کروڑ 30 لاکھ بچے غربت، صنفی تفریق اور جنگی اثرات سے دوچار ہیں جبکہ ایک ارب 20 کروڑ بچوں کو لازمی طورپر کسی ایک مسئلے کا سامنا ہے۔

سیودی چلڈرن کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ہیلے تھرونی نے کہا کہ ‘ہنگامی اقدامات کے بغیر، ہم کبھی وہ ان وعدوں کی پاسداری نہیں کر سکیں گے جو 2015 میں اقوام متحدہ میں ہر ملک نے کیا تھا کہ 2030 تک دنیا کے ہر بچے کو امراض سے محفوظ، تعلیم کی فراہمی اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔

پریس ٹی ویو کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوب اور وسطیٰ افریقہ کے 10 میں سے 8 ممالک میں بچوں کی حالت زار بدترین قرار دی گئی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ نائیجر میں بچوں کو سب سےزیادہ خطرہ ہے۔

اس کے برعکس سنگاہ پور اور سولوینیا میں بچوں کے ساتھ صنفی امتیاز، غربت اور جنگ و جدل کے سب سے کم کیسز منظر عام پر آئے۔

رپورت کے مطابق غربت زدہ ممالک میں تقریباً 1 ارب بچے، 24 کروڑ بچے سورش زدہ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ صںفی امتیاز کا معاملہ عام ہے۔

سروے کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں تازہ سروے میں شامل 175 ممالک میں سے 58 ملک میں بچوں کی تعلیم، آزادی، تحفظ، اور صحت کے امور گزشتہ 12 ماہ میں تنزلی کا شکار رہے۔

سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان، سومالیا، یمن اور افغانستان سمیت دیگر 20 مملک بچوں کے رہنے کے لیے بدترین مقامات ہیں۔

ادارے کے مطابق ہر 6 سے ایک یعنی 35 کروڑ 70 لاکھ بچے سورش زدہ علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں موت اور تشدد کا سامنا رہتا ہے۔

خراب کارکردگی کے حوالے سے سب سہارن افریقی ممالک (32واں)، جنوبی یورپ اور وسطیٰ ایشیا (34ویں) نمبر آئے۔

رپورٹ کے مطابق سب 51 فیصد سہارن افریقی ممالکی میں بچوں کے حالات کار میں بہترین دیکھنے میں آئی ہےاسی طرح مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 47 فیصد بہتری کے اثرات نمایاں رہے۔

رپورٹ میں تمام حکومتوں کو 10 بڑے مسائل بشمول بچوں سے جبری مشقت، ان کی جبری شادی اور نقل مکانی کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ سال تسلیم کیا تھا کہ 16 کروڑ 80 لاکھ بچے جبری مشقت میں کا شکار ہیں۔

اس حوالے سے سیو دی چلڈرن نے بتایا ک 2030 تک 15 کروڑ لڑکیاں 18 سال کی عمر تک پہچنے سے قبل ہی شادی کے بندھن سے بند جائیں گی جبکہ لاطینی امریکا، کیریبین اور سب سہارن افریقہ میں چائلڈ میرج کی روک تھام میں مثبت اشاریے دیکھنے میں آئے ہیں۔
Share/Save/Bookmark