ایران علاقے اور دنیا میں کیمیاوی حملوں سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک

بدقسمتی سے گزشتہ دہائیوں سے خطہ بڑے جنگوں کا شکار ہے اور افغانستان میں امریکہ کی موجودگی اور جنگ کا آغاز ان میں سے ایک ہے
افغانستان میں جنگ سے پہلے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین ہمارے ملک میں موجود تھے مگر جنگ کے آغاز کے ساتھ اس کی تعداد تین ملین سے زائد پہنچ گئی
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۸ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۵:۳۰
موضوع نمبر: 325139
 
ایران کے سنیئر نائب صدر نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کمیائی ہتھیاروں کا خطے اور دنیا میں سب سے بڑا متاثر ملک ہے.

تفصیلات کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نائب صدر اسحاق جہانگیری نے گزشتہ روز ایران کے دورے پر آئے بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور ہلال احمر فیڈریشن کے صدر فرانسسکو روکا کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ مشترکہ تعاون کے ذریعے ضرورت مندوں کو انسانی امداد کی ترسیل میں کامیابی حاصل ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران علاقے اور دنیا میں کیمیاوی حملوں سے متاثر ہونے والا سب سے بڑا ملک جبکہ ایسے ھتھیاروں کے استعمال غیرانسانی اقدام ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کا قانونی طریقے سے جائزہ لینا ہوگا.

انہوں نے مشرق وسطی کی نازک صورتحال پر تبصرہ کرتے ہو‏ئے کہا کہ بدقسمتی سے گزشتہ دہائیوں سے خطہ بڑے جنگوں کا شکار ہے اور افغانستان میں امریکہ کی موجودگی اور جنگ کا آغاز ان میں سے ایک ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان میں جنگ سے پہلے بڑی تعداد میں افغان پناہ گزین ہمارے ملک میں موجود تھے مگر جنگ کے آغاز کے ساتھ اس کی تعداد تین ملین سے زائد پہنچ گئی.

انہوں نے عراق اور کویت میں مسلسل اختلافات اور خونریزی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق اور امریکہ کے درمیان جنگ کے دوران عراقی مہاجرین ایران میں داخل ہوگئے اور بدقسمتی سے آج شام مختلف تنازعات کا شکار ہے اور وہاں کی عوام کے لئے انسانی، خوراک اور دوائیں کی امدادیں بھیجنے کی ضرورت ہے.

ایرانی نائب صدر نے سیاسی مذاکرات کے ذریعہ شامی مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتیں اس ملک کی مدد کے بجائے دہشتگردوں کی حمایت کرکے مختلف بہانے سے اس پر حملہ کر رہی ہیں.

انہوں نے یمنی نہتے عوام کی صورتحال پر اپنے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس ملک کی قوم محاصرے کا شکار ہے لہذا ان کے لئے انسانی اور دوائیں کی امداد بھیجنا ضروری ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران میں ہلال احمر سوسائٹی ریڈ کراس اور ہلال احمر سوسائٹی کی بین الاقوامی فیڈریشن کے ساتھ یمن اور دوسرے علاقوں کے اقوام کی مدد کے لئے باہمی تعاون پر تیار ہے.

اس موقع پر فرنچسکو رکا نے دوسرے ممالک کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی امدادوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ہم باہمی تعاون کا خیرمقدم کرتے ہیں.

انہوں نے اپنے شام، نائجیریا اور آئیوری کوسٹ کے دورے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی ہلال احمر سوسائٹی ان ممالک میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ یمن میں نہتے بچوں کا قتل عام قابل قبول نہیں لہذا عالمی برادری کو ان کی مدد کے لئے بھرپور کوشش کرنا چاہیئے.

 
Share/Save/Bookmark