شام پر حالیہ جارحیت امریکہ کا سیاسی دیوالیہ پن ہے

شام پر فوجی جارحیت سے امریکہ اور اتحادیوں کے سیاسی دیوالیہ پن اور ان کے جرائم نظر آتے ہیں
صالحی نے کہا کہ عراق پر بھی انھوں نے بغیر کسی ثبوت اور جواز کے جارحیت کی، اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولین پاول نے دعویٰ کیا تھا کہ عراق نے نائیجر سے یوریونیم خریدا جس کا مقصد اشتعال انگیز اقدامات کرنا تھا
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۲۷ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۶:۴۶
موضوع نمبر: 324972
 
ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ شام پر حالیہ جارحیت امریکہ اور اس کے ساتھ دینے والے ممالک کا سیاسی دیوالیہ پن ہے.

علی اکبر صالحی نے پیر کے روز اپنی کتاب 'تاریخ پر ایک نظر' کی تقریب رونمائی کے موقع پر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے مزید کہا کہ شام پر فوجی جارحیت سے امریکہ اور اتحادیوں کے سیاسی دیوالیہ پن اور ان کے جرائم نظر آتے ہیں.

صالحی نے کہا کہ عراق پر بھی انھوں نے بغیر کسی ثبوت اور جواز کے جارحیت کی، اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولین پاول نے دعویٰ کیا تھا کہ عراق نے نائیجر سے یوریونیم خریدا جس کا مقصد اشتعال انگیز اقدامات کرنا تھا. ان ممالک نے دو سالوں تک عراق کو کھنڈر بنادیا لیکن آخر میں پتہ چلا کے یہ دعوے بے بنیاد تھے.

انہوں ںے مزید کہا کہ ان واقعات کے بعد عوام بیدار ہوگئے اور جابر ممالک کی نیت اور اصل حقائق سے آگاہ ہوئے.

علی اکبر صالحی نے یورپی یونین کی جانب سے ایران مخالف پابندیوں کی توثیق کے حوالے سے بتایا کہ مغربی ممالک کے اقدامات پر موثر جوابی ردعمل جوہری معاہدے کی نگران کمیٹی کی جانب سے دیا جائے گا جو قومی مفادات کے مطابق ہوگا.

انہوں نے عزم کا اعادہ ہوگا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تکنیکی لحاظ سے کسی بھی وقت جوہری معاہدے سے پہلے کی صورتحال میں واپس جاسکتا ہے.
Share/Save/Bookmark