ایران کا میزائلی پروگرام دفاع کے لئے ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے:بہرام قاسمی

میزائلی پروگرام ایران کا اندرونی موضوع ہے،
فرانس کے حکام کو اپنے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے:بہرام قاسمی
تاریخ شائع کریں : جمعه ۲۴ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۱۴:۵۷
موضوع نمبر: 324454
 
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ فرانسیسی حکام کو سعودی عرب کے نا تجربہ کار اور جنگ پسند ولیعہد کی مہم جوئی سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے کل فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فرانس جو خود 1+5 کا رکن ہے اس سے یہ توقع نہیں رکھی جاتی کہ وہ سعودی عرب کے جھوٹے اور تکراری الزامات اور دعووں میں آجائے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب شروع سے ہی جوہری معاہدے کی مخالفت میں بیانات دے رہا تھا۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں ہونے والے دعووں کے بر خلاف ایران، علاقے میں قیام امن اور دہشت گردی اور دہشت گردوں کے خلاف جدوجہد کی اور مذاکرات اور گفتگو کو مغربی ایشیا کے علاقے میں امن و آشتی کے لئے واحد راستہ قرار دیتا ہے۔

بہرام قاسمی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ میزائلی پروگرام ایران کا اندرونی موضوع ہے، کہا کہ فرانس کے حکام بخوبی جانتے ہیں کہ ایران کا میزائلی پروگرام دفاع کے لئے ہے اور یہ کسی بھی ملک کے خلاف نہیں ہے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اسی طرح فرانس اور سعودی عرب کے مشترکہ بیان میں علاقے کے بعض ملکوں اور گروہوں کے لئے ایران کی جانب سے ہتھیاروں کی ترسیل کے دعوے کو ایک بار پھر مسترد کیا۔

بہرام قاسمی نے کہا کہ فرانس کے حکام کو اپنے عوام کی رائے کا احترام کرتے ہوئے سعودی عرب کو ہتھیاروں کی ترسیل کی پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہئیے اس لئے کہ ان ہتھیاروں سے سعودی حکام یمن کے نہتے اور مظلوم عوام کا خون بہا رہے ہیں۔
Share/Save/Bookmark