وزیراعظم پاکستان کا حالیہ دورہ افغانستان

اسلام آباد اور کابل ایسے مفرور اور شرپسند عناصر کیخلاف موثر کارروائی بھی کریں گے جن سے ان کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہوگا۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۱ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۲:۴۲
موضوع نمبر: 323861
 
پاکستان اور افغانستان نے اتفاق کیا ہے کہ دونوں ملک ایک دوسرے کیخلاف ریاست مخالفت سرگرمیوں کیلئے کسی ملک، گروہ، نیٹ ورک یا افراد کو اپنی سرزمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ افغانستان میں دونوں ملکوں کے درمیان اتفاق ہوا تھا کہ وہ امن و یکجہتی کیلئے بنائے گئے ورکنگ گروپس کو فعال بنائیں گے۔

یہ پانچ مختلف گروپس مختلف شعبوں میں تعاون اور باہمی تعلقات میں بہتری کیلئے حکمت عملی پر کام کریں گے۔ اسلام آباد اور کابل ایسے مفرور اور شرپسند عناصر کیخلاف موثر کارروائی بھی کریں گے جن سے ان کی سلامتی کو خطرہ درپیش ہوگا۔ مزید برآں ایک دوسرے پر الزام تراشی سے اجتناب کرتے ہوئے باہمی تنازع اور تشویش کے معاملات کے حل کیلئے تعاون کا طریقہ کار اپنایا جائے گا۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی ایک اعلیٰ سطحی رابطے ہو چکے ہیں جنہیں غیرجانبدار حلقے خطے میں امن اور دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کو کم کرنے کے ضمن میں ایک اچھی پیشرفت قرار دیتے ہیں لیکن جہاں یہ رابطے اور باہمی اتفاق رائے اچھا شگون ہے وہیں دونوں ملکوں کو ایسے عناصر پر بھی نظر رکھنے کی ضرورت ہے جو اسلام آباد اور کابل کے درمیان تعلقات میں بہتری نہیں دیکھنا چاہتے، ماضی کی نسبت پاکستان اور افغانستان کی طرف سے کسی معاملے پر ایک دوسرے پر الزام تراشی کا سلسلہ بھی قدرے کم ہوا ہے جو ایک اچھی پیشرفت کو ظاہر کرتا ہے جسے جاری رکھا جائے۔ دونوں ملک اپنے اپنے ہاں ہونیوالے اکثر دہشتگردی کے واقعات کیلئے ایک دوسرے کی زمین استعمال ہونے کا الزام بھی عائد کرتے رہے ہیں جبکہ پاکستان کا اصرار ہے کہ افغانستان سرحد کی موثر نگرانی کیلئے ویسے ہی اقدام کرے جس طرح اس نے اپنی جانب کیے ہیں تاکہ شر پسندوں کی آزادانہ نقل و حرکت کو ختم کر کے امن کو یقینی بنانے کیلئے کام کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔

ادھر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی یہ کہا ہے کہ افغانستان نے طالبان کیساتھ معطل شدہ امن مذاکرات کو بحال کرنے کی پاکستانی پیشکش قبول کر لی ہے۔ وزیراعظم کے بقول کابل حکومت طالبان کیساتھ معطل شدہ مذاکرات کی بحالی پر رضامند ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سترہ سالہ افغان تنازعے کا حل جنگ سے نہیں ہو سکتا۔ شاہد خاقان عباسی نے اپنے دورہ افغانستان کے دوران کابل میں صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔ پاکستان نے طالبان کے بارے میں افغان صدر کے اس بیان کی تعریف کی ہے، جس میں اشرف غنی نے اس بنیاد پرست مذہبی گروہ کو بطور سیاسی پارٹی تسلیم کرنے کی پیشکش کی ہے۔ طالبان نے اشرف غنی کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم طالبان نے اپنے اس دیرینہ مطالبے کو دہرایا ہے کہ کابل حکومت سے امن مذاکرات سے قبل وہ واشنگٹن حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔ پاکستان نے 2015 میں کابل حکومت اور طالبان کے مابین پہلی مرتبہ براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی تھی تاہم کابل کی طرف سے طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کے افشاء کے بعد یہ مذاکراتی سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

افغان طالبان اور کابل حکومت کے مابین امن مذاکرات میں اسلام آباد حکومت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ عشروں پہلے سوویت یونین کے دستوں کیخلاف لڑنے والے کمانڈر جلال الدین حقانی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی تھی۔ افغان جنگ کے دوران اسّی کی دہائی میں اس گروہ کو امریکی حمایت بھی حاصل تھی۔ 1995 میں اس نیٹ ورک نے طالبان کیساتھ اتحاد کر لیا تھا۔ 1996 میں طالبان حقانی نیٹ ورک کی مدد سے ہی کابل پر قبضہ کرنے کے قابل ہوئے تھے۔ 2012 میں امریکا نے حقانی نیٹ ورک کو ایک دہشتگرد گروہ قرار دے دیا تھا۔ جمعے کے دن پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی کیساتھ ملاقات میں اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ دونوں ہمسایہ ممالک علاقائی سلامتی کو یقینی بنانے کی خاطر مل کر کام کریں گے۔ یہ دونوں ممالک اکثر ایک دوسرے پر یہ الزام بھی عائد کرتے ہیں کہ ان کے سرحدی علاقوں میں فعال جنگجو گروہ سرحد پار سے کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

اشرف غنی اور شاہد خاقان عباسی کی یہ ملاقات ایک ایسے وقت پر ہوئی، جب ایک روز قبل ہی کابل نے پاکستان پر الزام عائد کیا تھا کہ پاکستانی فضائیہ نے کنڑ صوبے میں ایک کارروائی کی تھی۔ تاہم پاکستان نے اس الزام کو مسترد کر دیا تھا۔ اسلام آباد کی طرف سے کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی پاکستان کی قومی سرحدوں کے اندر کی گئی تھی۔ افغانستان میں مغربی دنیا کی حمایت یافتہ ملکی حکومت کا الزام ہے کہ افغانستان کی سرحد سے متصل پاکستان کے قبائلی علاقہ جات میں جنگجوؤں کے ٹھکانے موجود ہیں، جو افغانستان میں سرحد پار سے کارروائی کرتے ہوئے حکومتی اور غیر ملکی اہداف کو نشانہ بناتے ہیں۔ پاکستان البتہ ان الزامات کو رد کرتا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی حکومت کا کہنا ہے کہ کابل حکومت افغانستان میں موجود پاکستانی طالبان جنگجوؤں کیخلاف مناسب کارروائی نہیں کر رہی، جو وقتاً فوقتاً پاکستان میں دہشتگردانہ حملے کرتے رہتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ خظے کے تمام ممالک باہمی مسائل کا مذاکرات کے زریعے ہی حل نکالیں اور اپنے ملکوں کے عوام کو جنگوں کے خوف سے باہر نکالیں۔
تحریر: تصور حسین شہزاد
Share/Save/Bookmark