اسرائیلی جنگی طیاروں کی حماس کے ملٹری کمپاؤنڈ پر بمباری

اسرائیل،فلسطینوں کے خلاف قتل و غارت کا سلسلہ فوری طور پر روک دے۔
اسرائیل نے فلسطین کے علاقے غزہ میں دو بوتل بم نصب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شمالی غزہ میں حماس کے کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کردیئے
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۲۰ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۱:۰۸
موضوع نمبر: 323635
 
اسرائیل نے فلسطین کے علاقے غزہ میں دو بوتل بم نصب کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے شمالی غزہ میں حماس کے کمپاؤنڈ پر فضائی حملے کردیئے۔

ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے تین فلسطنیوں کو غزہ پٹی سے داخل ہو کر اسرائیلی حدود میں خود ساختہ دو بوتل بم نصب کرتے ہوئے دیکھا، جس کے بعد اسرائیلی ٹینکوں نے مشتبہ افراد پر گولہ باری شروع کردی تاہم کوئی جان نقصان نہیں ہوا۔

واقعے کے فوری بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے حماس کے ملٹری کمپاؤنڈ پر بمباری شروع کی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوجیوں نے دعویٰ کیا کہ حماس کے حمایت یافتہ مظاہرین نے اسرائیلی دفاعی حدود کے اندر پیش قدمی کی اور مبینہ طور پر دوبوتل بم اسرائیل میں لانے کی کوشش کی۔

اسرائیلی جنگی طیاروں کے حملوں میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے نہیں آئیں۔

انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کی پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا نے کہا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کے ارتکاب پر باضابطہ تحقیقات کرانے کی کوشش کررہی ہیں۔

چیف پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینوں کے خلاف قتل و غارت کا سلسلہ فوری طور پر روک دے۔

فاتو بینسوڈا نے کہا کہ غزہ کی سرحد پر احتجاج کرنے والے ہزاروں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی فورسز کی براہ راست فائرنگ سے گزشتہ 10 دن میں 30 فسطینی جاں بحق اور ہزاروں زخمی ہوئے۔

واضح رہے کہ اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق فلسطینی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ تازہ کارروائیوں میں ایک ہزار 70 افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 293 افراد براہ راست گولیوں کا نشانہ بنے اور 25 زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

عالمی برادری نے اسرائیلی فورسز کی جانب سے احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر ہتھیاروں کے استعمال پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا لیکن اسرائیل سرحد پر لگائی گئی باڑ کو کسی قسم کے نقصان سے بچانے کے لیے فائرنگ کو بدستور جاری رکھنے پر بضد ہے۔

تازہ ترین حملوں کا آغاز 6 اپریل سے ہوا جب غزہ کے سرحدی حصے پر اسرائیلی فائرنگ سے ایک صحافی یاسر مرتضیٰ سمیت 9 فلسطینی شہری جاں بحق ہوئے۔

خیال رہے کہ جنوری 2015 میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) نے فلسطین کی رکنیت منظور کی جس کے بعد فلسطین، اسرائیل کے خلاف عالمی عدالت میں جنگی جرائم کے مقدمات دائر کرسکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سابق سیکریٹری جنرل بان کی مون کے فیصلے پر امریکا اور اسرائیل نے شدید مخالفت کی تھی، دونوں ممالک کا موقف تھا کہ فلسطین ایک آزاد ریاست نہیں ہے اس لیے عالمی عدالت کے دائرکار میں نہیں آتی۔

اسی حوالے سے واضح رہے کہ عالمی عدالت کی چیف پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا نے اعلان کیا کہ وہ ابتدائی مرحلے میں تحقیقات کے ذریعے ایسے شواہد جمع کررہی ہیں جس سے ثابت ہو اسرائیل جون 2014 سے فلسطین میں جنگ جرائم کا مرتکب ہوا ہے جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔



 
Share/Save/Bookmark