پاکستان میں سارک کانفرنس کا انعقاد ناممکن ہے:مودی

ہندستان نے 2016ء میں بھی پاکستان میں سارک اجلاس منسوخ کرادیا تھا
پاکستان میں ہونے والی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کانفرنس سبوتاژ ہونے کا امکان
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۱۹ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۲۳
موضوع نمبر: 323416
 
پاکستان میں ہونے والی جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کیلئے بھارت سرگرم ہوگیا اور وزیراعظم نریندرا مودی نے اجلاس میں شرکت کو خارج از امکان قرار دے دیا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے نیپالی وزیراعظم سے نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہوئے اس سال سارک سربراہ اجلاس کے اسلام آباد میں انعقاد کو خارج از امکان قرار دے دیا۔ 

مودی نے نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کو بتایا کہ موجودہ صورت حال میں اسلام آباد میں سارک کانفرنس کا انعقاد ممکن نہیں ہے اور بھارت اس میں شرکت نہیں کرے گا۔ مودی نے نیپال پر بھی کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کےلیے زور دیا۔

مودی اور نیپالی وزیراعظم کے پی شرما کی ملاقات کے بعد بھارتی سیکرٹری خارجہ ویجاج گوکھل نے میڈیا بریفنگ کے دوران صحافیوں کو بتایا کہ بھارتی وزیراعظم نے اپنے ہم منصب کو سارک کانفرنس سے متعلق بھارت کے خدشات سے آگاہ کیا ہے اور پاک بھارت سرحد پر موجودہ صورت حال کے پیش نظر پاکستان میں سارک کانفرنس کے انعقاد کو ناممکن قرار دیا۔

سارک کانفرنس کا پچھلا اجلاس 2014 ء میں کھٹمنڈو میں منعقد ہوا تھا جس کے بعد انگریزی حرف تہجی کے حساب سے اگلی کانفرنس پاکستان میں 2016 ء میں ہونی تھی لیکن بھارت کی روایتی ہٹ دھرمی اور بنگلہ دیش، افغانستان، نیپال اوربھوٹان کی ملی بھگت کے باعث کانفرنس معطل کرادی گئی تھی اور اس بار بھی بھارت نے اپنے منفی کردار اور مذموم کھیل کا آغاز کردیا ہے۔

سارک جنوبی ایشیا کے 8 ممالک پر مشتمل اقتصادی اور سیاسی تنظیم ہے جس میں بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، بھوٹان اور افغانستان شامل ہیں۔سارک کے چارٹر کے تحت اگر کوئی رکن ملک اجلاس میں شرکت سے معذرت کرتا ہے تو اس صورت میں اجلاس کا انعقاد نہیں ہو سکتا۔
Share/Save/Bookmark