ایران کیمیائی ھتھیاروں کا شکار ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے

ایرانی سفارتکار کا کیمیائی ھتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم سے خطاب
کیمیائی ہتھیار کنونشن کے تحت ہر معاملات کو سیاست میں الجھانا حکومتوں کے لئے فائدہ مند نہیں: ایران
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۶ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۵۸
موضوع نمبر: 322877
 
اعلی ایرانی سفارتکار نے کیمیائی ھتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم (OPCW) کے غیرمعمولی اجلاس میں کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کیمیائی ھتھیاروں اور اس پر عالمی خاموشی کا شکار رہا ہے.

یہ بات نیدرلینڈ میں تعینات ایرانی سفیر علی رضا جہانگیری جو کیمیائی ھتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم (OPCW) میں مستقل مندوب بھی ہیں، نے اس تنظیم کی غیرمعمولی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس نشست کا مقصد روسی جاسوس کے حوالے سے روس اور مغربی ممالک کے درمیان حالیہ تنازع کا جائزہ لینا تھا.

اس موقع پر اعلی ایرانی سفارتکار نے کہا کہ کیمیائی ہتھیار کنونشن کے تحت ہر معاملات کو سیاست میں الجھانا حکومتوں کے لئے فائدہ مند نہیں بلکہ اس اقدام سے کیمیائی ھتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم کی ساکھ خطرے میں پڑ جائے گی.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ الزامات یا حتمی فیصلے سے پہلے قیاس آرائیوں سے گریز کیا جائے بلکہ ایسے تنازعات کے حل کے لئے عالمی تنظیم کی صلاحیت پر انحصار کیا جائے.

علی رضا جہانگیری نے مزید کہا کہ جو ممالک آج کی نشست میں کیمیائی ھتھیاروں کا شکار بننے والوں کا نام لے رہے ہیں وہ کیوں ایران کا نام نہیں لیتے؟ جبکہ ایران کیمیائی ھتھیاروں کا شکار ہونے والا سب سے بڑا ملک ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران نہ صرف ایسے ھتھیاروں کا شکار رہا بلکہ ہم بین الاقوامی خاموشی کا بھی شکار ہیں. ہمارا مؤقف ہمیشہ سے یہی ہے کہ کیمیائی ھتھیاروں کی ہرطرح مذمت کرتے ہیں.

اس نشست کے موقع پر ایرانی سفیر نے روس، چین، پاکستان، شام، وینزویلا، کیوبا، نیکاراگوا، بیلاروس، قازقستان، ارمینیا، کرغزستان، جمہوریہ آذربائیجان، تاجکستان اور ازبکستان کے نمائندوں کی جانب سے مشترکہ بیان کو پڑھ کر سنایا جس میں باہمی تعاون اور تعمیری مذاکرات کے ذریعے حالیہ تنازع کے حل پر زور دیا گیا تھا.
Share/Save/Bookmark