دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے عراق اور شام کی مدد کررہے ہیں: ایرانی وزیر دفاع

قازقستان خطے میں قیام امن کے لئے بہت موثر ملک ہے:جنرل حاتمی
ایران اور قازقستان کے درمیان باہمی تعاون عالمی برادری کے لئے ایک اچھا ماڈل ہے اور ہم ایسے تعلقات کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں.
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۶ فروردين ۱۳۹۷ گھنٹہ ۲۳:۳۲
موضوع نمبر: 322875
 
ایرانی وزیر دفاع اور لاجسٹک نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کی جڑوں کی شناخت کی وجہ سے اپنی تمام طاقت کے ساتھ اس لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لئے عراق اور شام کی مدد کر رہا ہے.

بریگیڈیر جنرل امیر حاتمی نے ماسکو سیکورٹی کانفرنس کے موقع پر اپنے قازق ہم منصب بے بود بکرویچ اتمکلف کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ دینی، ثقافتی اور تاریخی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قازقستان خطے میں قیام امن کے لئے بہت موثر ملک ہے اور اس نے جوہری مذاکرات اور آستانہ میں اہم کردار ادا کیا.

جنرل حاتمی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور قازقستان کے درمیان باہمی تعاون عالمی برادری کے لئے ایک اچھا ماڈل ہے اور ہم ایسے تعلقات کو آگے بڑھانے کے خواہاں ہیں.

انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ناجائز صہیونی ریاست نے خطے میں اپنے مفادات کی فراہمی کے لئے انتہاپسندی کو قائم کیا ہے. علاقائی ممالک کے مال کو لوٹنے کے لئے دہشتگردی گروہوں سے استعمال کرنا سامراجی طاقتوں کا مقصد ہے.

انہوں نے خطے میں دہشتگردی اور انتہاپسندی کے خطروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کی جڑوں کی شناخت کی وجہ سے اپنی تمام طاقت کے ساتھ شام اور عراق میں اس لعنت کی جڑوں کو خشک کرنے کی مدد کر رہا ہے.

قازق وزیر دفاع نے کہا کہ دہشتگردی اور بحران کی روک تھام کے لئے علاقائی ممالک بالخصوص ایران، روس اور ترکی کے درمیان باہمی تعاون خطے اور دنیا کے لئے بہت ہی اہم ہے.

اتمکلف نے خطے کی بدامنی کو تمام ممالک کے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ تمام علاقائی ممالک اپنے ملک اور ہمسایہ ممالک میں قیام امن کے لئے بھرپور کوشش کریں.

انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ بحیرہ کسپین کے ممالک باہمی اتفاق کے ساتھ کثیر الجہتی سمیت سیاسی، فوجی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے اچھے اقدامات اٹھائیں گے.
Share/Save/Bookmark