ریکس ٹلرسون کی برطرفی سے سنگین نتائج مرتب ہوں گے.

ٹلرسن کی برطرفی ایران جوہری معاہدے پر سنگین نتائج مرتب کرے گی: سابق امریکی مشیر
ریکس ٹلرسن اور امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کے تعاون سے خفیہ کوششوں میں مصروف تھے:سابق امریکی مشیر
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۳ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۴۱
موضوع نمبر: 318277
 
امریکی وزیر خارجہ کے سابق مشیر برائے سیاسی امور کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ریکس ٹلرسون کی برطرفی سے ایران جوہری معاہدہ، شمالی کوریا اور روس سے متعلق امریکی پالیسی پر سنگین نتائج مرتب ہوں گے.

امریکہ کے سابق انڈر سیکرٹری برائے سیاسی امور تھامس پکرنگ نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈائریکٹر سی آئی اے مائیک پومپیو کو نئے امریکی وزیر خارجہ تعینات کرنے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اس بات پر شدید خدشہ ہے امریکی صدر نے 12 مئی کے دن ایران جوہری معاہدے پر دوبارہ فیصلہ کرنا ہے اور کہیں وہ یہ نہ کھیں کہ ایران سے متعلق جوہری پابندیوں کی معطلی کو ختم کرنا چاہتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ ایسا قدم اٹھائے تو وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا. ایسے اقدامات سے ایران، امریکہ اور پورے خطے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے لہذا 12 مئی سے پہلے ٹرمپ کے ممکنہ فیصلے کی مخالفت کے لئے کوششوں کو بڑھانا ہوگا.

تھامس پکرنگ جو اقوام متحدہ میں بھی بطور امریکی سفیر فرائض سرنجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ مائیک پومپیو ایک ایسا شخص ہے جس نے ٹرمپ کو خوش رکھنے کے لئے کسی کوشش سے دریغ نہیں کیا اور ایران کے حوالے سے اس کے ماضی کے اقدامات منفی ہیں. لہذا ہم مسجھتے ہیں آنے والے حالات ماضی کے مقابلے میں زیادہ برے ہوں. 

ان کے مطابق، ریکس ٹلرسن اور امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس ایران جوہری معاہدے کے تحفظ کے لئے ایک دوسرے کے تعاون سے خفیہ کوششوں میں مصروف تھے.

انہوں نے بتایا کہ اہم سوال یہ ہوگا کہ کیا امریکہ اور یورپی یونین 12 مئی سے پہلے ایران کے میزائل پروگرام سے متعلق اختلافات کے حل کے لئے کوئی موثر اقدام کریں گے یا نہیں. ایران نے اس حوالے سے مختلف جوابات دیے ہیں. 

تھامس پکرنگ نے کہا کہ ان کی نظر میں ایران کا سب سے زیادہ مثبت یہی پیغام ہے کہ وہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل میں دلچسپی نہیں رکھتے. لہذا اس مؤقف کو مد نظر رکھتے ہوئے مفاہمت کے لئے راستہ ہموار ہوسکتی ہے.

انہوں نے کہا کہ دوسری اہم بات مشرق وسطی میں تناو اور کشیدگی کا خاتمہ کرنا ہے. ایران نے ان مسائل بالخصوص یمن کے بحران کے خاتمے کے لئے بات چیت پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے. اس ضمن میں شامی مسئلے کو بھی اٹھایا جاسکتا ہے.

سابق نائب امریکی وزیر خارجہ نے ایران جوہری معاہدے کے مستقبل پر تبصرہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ اور یورپ اس کا حل نکالیں گے.

ان کا کہنا تھا کہ یورپ اور امریکہ میں اکثریت جوہری معاہدے کے حق میں ہیں. لہذا اس معاہدے کی راہ میں روڑے اٹکانے کے بجائے مشکلات کے خاتمے کے لئے قدم اٹھانا ہوگا.

انہوں نے ریکس ٹلرسن کی برطرفی اور ایران جوہری معاہدے پر اس کے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا تھا ان کے ٹلرسن کے ساتھ کچھ اختلافات تھے بالخصوص ایران جوہری معاہدے پر ٹرمپ، ٹلرسن سے خوش نہیں تھے.
Share/Save/Bookmark