پاکستان خطے میں تناؤ کو ختم کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کرے

وزیر خارجہ محمد جواد ظریف تین روزہ دورے پر اسلام آباد میں موجود تھے جہاں انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں
پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر تاکید کی ہے کہ خطے میں امن کو بحال کرنے اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۲۳ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۵۰
موضوع نمبر: 318134
 
ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ خطے میں تناؤ کو ختم کرنے اور ’افہام و تفہیم اور شمولیت‘ کے نئے دور کو عملی جامہ پہنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔

تنا نیوز کے مطابق ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف تین روزہ دورے پر اسلام آباد میں موجود تھے جہاں انہوں نے پاکستان کی اعلیٰ سول اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے یمن اور شام میں جاری خانہ جنگی کی مثال دیتے ہوئے طاقت کے ذریعے جیت حاصل کرنے اور اپنے آپ کو حالات سے دور رکھنے کے تجربات کرنے سے خبردار کیا۔

ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان اور ایران پُر جوش اور پڑوسی ہیں اور ان کے پاس ایسی بنیاد موجود ہے جو انہیں شمولیت کے تصور پر خطے میں تبدیلی لاتے ہوئے مضبوط تر ہمسائہ بنانے کی جانب گامزن کرنے کی صلاحیت دیتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ نے آرمی چیف سے ملاقات کے دوران پاکستان اور ایران کی جانب سے سرحد پر سیکیورٹی کو مزید مستحکم بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

پاک فوج کےشعبہ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق ایرانی وزیرخارجہ نے گزشتہ چند ماہ کے دوران پاک ایران سرحد کے دونوں جانب سیکیورٹی انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کو بھی سراہا۔

خیال رہے کہ پاک ایران سرحد پر سیکیورٹی کی صورتحال ہمیشہ سے ہی اسلام آباد اور تہران کے درمیان ایک مسئلہ رہا ہے۔

گزشتہ برس مئی میں سرحد پار سے دہشت گردوں کے حملوں میں ایرنی سیکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد ایرنی وزیر خارجہ کے دورہ اسلام آباد کے دوران بھی پاکستان سے یقین دہانی طلب کی تھی کہ پاکستان دہشت گردوں کے حملے روکنے کے لیے اقدامات کرے۔

پاکستان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اس موقع پر تاکید کی ہے کہ خطے میں امن کو بحال کرنے اور چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے مغربی ایشیائی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت ہے۔

جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پاک آرمی کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ مغربی ایشیا میں امن کا دارومدار خطے کے ممالک کے درمیان تعاون پر ہے۔

خیال رہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں پاکستان اور ایران ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں جبکہ ماضی میں پاکستان سعودی عرب اور قطر، سعودی عرب اور ایران کے درمیان سیاسی تنازع کو ختم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی کوششیں کیں، تاہم اسلام آباد کبھی ریاض کو اپنی کوششوں کی مدد سے آمادہ نہیں کر پایا۔

جنرل قمر جاوید باجوہ نے گزشتہ برس تہران کا دورہ کیا تھا اور حال ہی میں پاک ایران تعلقات میں بہتری ان ہی کے سر ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستان کے وفاقی وزیر خارجہ خواجہ آصف نے قومی اسمبلی کے ایک سیشن کے دوران سعودی عرب میں پاکستان فوج کی تعیناتی کی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاک فوج کے دستے یمن جنگ میں شرکت کرنے کے لیے نہیں بلکہ سعوی عرب کی خودمختاری کی حفاظت کے لیے بھیجے جارہے ہیں‘۔

گزشتہ برس آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورہ ایران کے دوران بھی پاک ایرانی سرحد پر سیکیورٹی کے حوالے سے امور زیرِ بحث آئے تھے۔

آرمی چیف نے دہشت گردوں کے سرحد پار حملے روکنے کے لیے بہتر سرحدی سیکیورٹی منیجمنٹ کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
Share/Save/Bookmark