عالم اسلام کی سب سے بڑی مصیبت انتہا پسند فکر اور شدت پسندی ہے

پاکستان سے آئے ہوئے علمائے کرام اور مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے ایک وفد نے مذاہب اسلامی یونیورسٹی کا دورہ کیا
حجت الاسلام مختاری نے مزید کہا کہ اسلام دشمن عناصر نہ شیعوں کے حامی ہیں نہ ہی سنیوں کے ان کا ہدف اسلام کو نابودی میں دھکیلنا ہے۔ اس موقع پر مذاہب اسلامی یونیورسٹی اسلام کا معتدل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کررہی ہے
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۲۲ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۸:۴۱
موضوع نمبر: 318029
 
پاکستان سے آئے ہوئے علمائے کرام اور مختلف یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے ایک وفد نے مذاہب اسلامی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور مذاہب اسلامی یونیورسٹی کے چانسلر ڈاکٹر مختاری سے ملاقات کی۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں صوبہ سیستان بلوچستان کے معروف اہل سنت عالم دین مولوی نذیر احمد بھی شریک تھے۔

حجت السلام ڈاکٹر مختاری نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اس یونیورسٹی نے مسالمت آمیز ماحول میں باہمی زندگی گذارنے والے افراد کے لئے ایک علمی فضا فراہم کی ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی کے کلیہ جات اور یہاں پڑھائے جانے والے موضوعات اور دروس پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ آج عالم اسلام کی سب سے بڑی مصیبت انتہا پسند فکر اور شدت پسندی ہے کہ جس کا پیغمبر ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہ جو رحمت للعالمین تھے انکی سیرت طیبہ سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔

حجت الاسلام مختاری نے مزید کہا کہ اسلام دشمن عناصر نہ شیعوں کے حامی ہیں نہ ہی سنیوں کے ان کا ہدف اسلام کو نابودی میں دھکیلنا ہے۔ اس موقع پر مذاہب اسلامی یونیورسٹی اسلام کا معتدل چہرہ دنیا کے سامنے پیش کررہی ہے۔

اس نشست کے دوران مکتلف علمائے کرام نے اتحاد بین المسلمین کے حوالے سے اپنے نظریات پیش کئے اور نشست کے اختتام پر پشاور یونیورسٹی کے چانسلر نے حجت الاسلام مختاری کو اییک یادگاری شیلڈ پیش کی اور اسی طرح مذاہب اسلامی یونیورسٹی ی جانب سے بھی پاکستان سے آئے ہوئے مہمانوں کو یادگاری شیلڈ پیش کی گئی۔
 
Share/Save/Bookmark