حضرت فاطمہ س اہل بیت عترت و طہارت کا مرکز اور محور ہیں

" عورت پاک معاشرے کو پروان چڑھانے والے ہستی" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے آیت اللہ محسن اراکی کاخطاب
حضرت ابراہیم ع کا انتخاب بھی خاندان کی صورت میں ہوا اور پھر یہ امر انکی نسل در نسل منتقل ہوتا چلا گیا۔ البتہ دو نسلیں کہ جن میں سے ایک عہد کو توڑنے والی نسل تھی جس سے امامت چھین کر آل اسماعیل کو دے دی گئی جس کی جانب خداوند متعال نے سورہ مریم س میں اشارہ فرمایا ہے
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۲۱ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۹:۴۸
موضوع نمبر: 317744
 
عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے لیکن ان تمام باتوں کے مقابلے میں انکا مقام کہیں بلند تر ہے۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی مجلس تقریب مذاہب اسلامی کے شعبہ خواتین کی جانب سے منعقدہ" عورت پاک معاشرے کو پروان چڑھانے والے ہستی" کے عنوان سے منعقدہ کانفرنس سے آیت اللہ محسن اراکی نے خطاب کیا۔

انہوں نے کہا کہ بحث یہ نہیں ہے کہ معاشرے کے تمام افراد اچھے ہوجائیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ معاشرہ صالح ہو اور اس کا اہم رکن ایک متقی انسان ہوتا ہے۔

آیت اللہ اراکی نے کہا کہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا مطلب یہ ہے کہ اس میں محبت کا معیار ایک ہو، بغض کا معیار ایک ہو اور عدل کا معیار بھی ایک ہو۔ ایسے معاشرے کی رہبری امام کرتا ہے۔

آیت اللہ اراکی نے مزید کہا کہ ایک سالم معاشرے کے لئے خدا بعض افراد کا انتکاب کرتا ہے اور یہ انتخاب انفرادی بھی ہوسکتا ہے اور خاندان کی صورت میں بھی ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم ع کا انتخاب بھی خاندان کی صورت میں ہوا اور پھر یہ امر انکی نسل در نسل منتقل ہوتا چلا گیا۔ البتہ دو نسلیں کہ جن میں سے ایک عہد کو توڑنے والی نسل تھی جس سے امامت چھین کر آل اسماعیل کو دے دی گئی جس کی جانب خداوند متعال نے سورہ مریم س میں اشارہ فرمایا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس عمل کا ہدف معاشرے کی تطہیر کرنا تھا اور یہ تطہیر کا ہی نتیجہ ہے کہ حضرت علی ع اور حضرت فاطمہ س کے گھر سے ایسا چشمہ جاری ہوا کہ جو سب کی تطہیر کر رہا ہے اور اس کا مرکز حضرت فاطمہ س کی ذات والا صفات ہے۔
Share/Save/Bookmark