افغانستان پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی ہے:افغانستان

افغان عوام باہر سے مسلط کی گئی اس جنگ کا سامنا کررہے ہیں - افغان صدر
افغانستان کی انٹیلی جنس اور سیکورٹی فورسز کو طاقتور ہونا ہوگا تاکہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں:اشرف غنی
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۲۱:۰۳
موضوع نمبر: 317540
 
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ ملک میں جاری جنگ اور خونریزی باہر سے مسلط کی گئی ہے دوسری جانب افغانستان کے ایک رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ امریکا علاقے میں اپنے مفادات کے لئے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات کو خراب کرنا چاہتا ہے

افغانستان کے صدر محمد اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان پر جنگ باہر سے مسلط کی گئی ہے اور افغان عوام باہر سے مسلط کی گئی اس جنگ کا سامنا کررہے ہیں - افغان صدر اشرف غنی نے دہشت گردوں کی نابودی تک ان کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کی انٹیلی جنس اور سیکورٹی فورسز کو طاقتور ہونا ہوگا تاکہ وہ دہشت گردانہ کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرسکیں - افغانستان کے صدر نے یہ بیان کابل میں نیشنل سیکورٹی گارڈ کے خصوصی دستے کی تشکیل کی مناسبت سے منعقدہ پروگرام میں دیا -

دوسری جانب افغانستان کی پارلیمنٹ کے ایک رکن عبدالرحمان رحمانی نے کہا ہے کہ امریکا علاقے میں اپنے مفادات کے لئے افغانستان اور پاکستان کے تعلقات خراب کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ا فغانستان میں سرگرم دہشت گرد گروہ جنھیں واشنگٹن کے علاقائی مفادات کی تکمیل کے لئے اسلام آباد کی جانب سے حمایت حاصل ہے صرف افغانستان کی سیکورٹی کے لئے خطرہ نہیں ہیں بلکہ آگے چل کر وہ پاکستان کے لئے بھی بہت بڑا خطرہ بن جائیں گے۔

افغان رکن پارلیمنٹ رحمانی نے افغانستان میں قیام امن اور سیکورٹی کے تعلق سے ہونے والی اب تک کی کانفرنسوں اوراجلاسوں کو بے سود قراردیتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک ایک طرف سے ان کانفرنسوں میں شرکت کرتے ہیں اور دوسری طرف سے افغانستان میں سرگرم تکفیری دہشت گرد گروہوں کی اسلحہ جاتی اور مالی مدد کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن اسی صورت میں قائم ہوگا جب سبھی افغان گروہ آپس میں متحد ہوجائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج علاقے کی اقوام جانتی ہیں کہ ان کے ملکوں میں جو جنگ کی آگ بھڑکائی جارہی ہے اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اختلافات پیدا کرنا اور انہیں کمزور کرنا ہے۔

اس درمیان پاکستانی سکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ اسلام آباد اور امریکا نے افغانستان میں قیام امن کے لئے باہمی تعاون پر اتفاق کیا ہے۔ تہمینہ جنجوعہ نے واشنگٹن میں امریکی حکام سے افغانستان کی صورتحال پر خاص طور پر بات چیت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی حکام کے ساتھ بات چیت مفید اور اطمینان بخش رہی ہے اور دونوں ہی ممالک علاقے میں سیاسی اور سیکورٹی سے متعلق تعاون کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

تہمینہ جنجوعہ نے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں جو سب سے اہم اتفاق رائے ہوا ہے وہ افغانستان میں قیام امن کےبارے میں ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ افغانستان کے معاملے پر پچھلے مہینوں کے دوران پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات کافی حدتک کشیدہ ہوگئے تھے۔ امریکا نے پاکستان کو دہشت گردوں کی معاونت کرنے والے ملکوں کی فہرست میں شامل کرنے کی کوشش کی ہے۔

 
 
 
 
 
 
 
Share/Save/Bookmark