داعش پر فتح میں ایران ہمارا پہلا پارٹنر ہے:عراقی رضاکار فورس

جب عراق کو جنگی سازوسامان کی سخت ضرورت تھی تب امریکہ نے کوئی تعاون نہیں کیا
سربراہ اظہار ابو مہدی المہندس : اسلامی جمہوریہ ایران کے بروقت تعاون اور اس کی موثر مدد کی بدولت عراقی حکومت مضبوط ہوئی
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۲۰:۰۰
موضوع نمبر: 317537
 
عراق کی رضاکار فورس کے نائب سربراہ اظہار ابو مہدی المہندس نے کہا ہے کہ داعش پر فتح میں ایران ہمارا پہلا پارٹنر ہے اور ہم نے ایران کی مدد سے بغداد حکومت کو گرانے اور عراق میں فرقہ وارانہ جنگ کی سازش کو ناکام بنادیا گیا.

اظہار ابو مہدی المہندس نے کہا کہ ایران نے عراق کی مرکزی حکومت کو گرنے سے بچایا. ایران داعش کے خلاف جنگ اور کامیابی میں عراق کا پہلا اور اہم پارٹر ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ جون 2014 کو پیدا ہونے والی ابتر صورتحال کے بعد بغداد حکومت گرنے کا امکانات بڑھ گئے تاہم اسلامی جمہوریہ ایران کے بروقت تعاون اور اس کی موثر مدد کی بدولت عراقی حکومت مضبوط ہوئی جبکہ ایران کی عسکری مشاورت اور دہشتگردوں کے خلاف جنگ سے متعلق موثر منصوبہ بندی کی وجہ سے ملک اور حکومت کو بچالیا گیا.

الحشد العشعبی کے نائب سربراہ نے کہا کہ ایران کے تعاون کی بدولت نہ صرف ہمیں داعش کے خلاف فتح حاصل ہوئی بلکہ عراق میں مذہبی اور فرقہ وارانہ جنگ کی آگ کو بھی بھجا لیا گیا.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی عسکری مشاورت اور حزب اللہ کی مدد سے پہلے مرحلے میں بغداد کو دہشتگردوں کی رسائی تک بچالیا گیا اور دوسرے مرحلے میں سامرا کو جانے والے روڈ کو کھول دیا گیا کیونکہ دہشتگرد سامرا اور اہلبیت علیہم السلام کے مقدس مزارات تک پہنچنا چاہتے تھے.

ابو مہدی کا کہنا تھا کہ جب عراق کو دفاعی اور جنگی سازوسامان کی سخت ضرورت تھی تب امریکہ نے کوئی تعاون نہیں کیا بلکہ دفاعی کمپنیوں کو عراق کے لئے سازوسامان فراہم کرنے سے روکا.

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران واحد ملک تھا جو تمام لمحات کے دوران عراقی قوم اور اس ملک کی علاقائی سالمیت کا دفاع کیا ہے.

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دہشتگردی کا شکار رہا ہے تاہم ایران دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پُرعزم ہے.
Share/Save/Bookmark