داعش کی تشکیل میں سعودی عرب کا اہم کردار ، امریکی عہدیدار کا انکشاف

سعودی عرب اور امریکہ یمن میں بڑھتے ہوئے بحران کا باعث بن رہے ہیں
رابرٹ ہنٹر:سعودی عرب کے مطابق، امریکہ بڑا شیطان نہیں اور وہ جابر صہیونی ریاست سے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کر رہا ہے.
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۹:۴۵
موضوع نمبر: 317536
 
نیٹو میں سابق امریکی سفیر نے داعش دہشتگردوں کی تشکیل میں سعودیوں کی مدد اور مغرب کی خاموشی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کے مطابق، امریکہ بڑا شیطان نہیں اور وہ جابر صہیونی ریاست سے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کر رہا ہے.

رابرٹ ہنٹر نے شام اور عراق میں داعش دہشتگردوں کی شکست اور انتہاپسندی کے پھیلاو کی روک تھام کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کی مبنی پر دہشتگردوں سے مقابلہ کرکے دہشتگردوں کی دھمکیوں کا شکار ہونے والے ممالک کی مدد کرسکتا ہے.

ہنٹر نے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ خطے میں دہشتگردوں کے خلاف ایران کی سرگرمیوں ناگزیر ہے جس کا خیرمقدم کرنا چاہیئے.

انہوں نے کہا کہ امریکی اور اسرائیلی حکام نے ایران کی جانب سے یمن، شامی صدر 'بشار الاسد'، حزب اللہ اور حماس کی تحریکوں کی حمایت اور اس کے میزائل پروگرام کی مخالفت کی وجہ سے انتہاپسندوں کے خلاف جنگ میں اس ملک کے تعمیری کردار کی تردید کی.

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور امریکہ انتہاپسندوں اور داعش دہشتگردوں کی مالی اور ہتھیاری حمایت کرتے ہیں لہذا وہ یمن میں بڑھتے ہوئے بحران اور انتہاپسندی کے پھیلاؤ کا باعث بن رہے ہیں.

سابق امریکی سفیر نے کہا کہ سعودیوں ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ دوطرفہ رابطوں کو بہتر بنانے کے لئے کوشش کرتے ہیں.
Share/Save/Bookmark