فیصل آباد میں نواز شریف کو جوتا دے مارا گیا

دارالعلوم نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکے والے شخص کو پکڑ لیا
اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے تو پھر عوامی نمائندے اپنی سیکیورٹی حصار کو بڑھا دیں گے، اس طرح وہ عوام سے گھل ملنے سے محروم ہوجائیں گے جس کے بعد پھر میڈیا اور عوام ہی یہ کہیں گے کہ لیڈر عوام سے دور ہوگئے ہیں
تاریخ شائع کریں : يکشنبه ۲۰ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۲:۲۶
موضوع نمبر: 317422
 
دارالعلوم نعیمیہ میں ایک تقریب میں سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے ان پر جوتا دے مارا جبکہ دارالعلوم نعیمیہ کی انتظامیہ نے جوتا پھینکے والے شخص کو پکڑ لیا ہے۔

تقریب خبر رساں ایجنسی کے مطابق نواز شریف مفتی محمد حسین نعیمی کی برسی سے متعلق تقریب سے خطاب کرنے اسٹیج پر آئے تو ایک شخص نے جوتا دے مارا تاہم جوتا ان کے کندھے سے لگنے کے بعد پیچھے جا گرا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز وزیرخارجہ خواجہ محمد آصف پر ایک تقریب کے دوران ایک شخص نے سیاہی پھینک دی تھی۔

اس واقعے پر پاکستانی سیاستدانوں نے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مختلف بیانات دیئے ہیں۔

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ نوازشریف پر جوتا پھینکنا غیر سیاسی رویہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے مسلم لیگ (ن) اور نواز شریف کے ساتھ سیاسی اختلافات درست ہیں لیکن اس طرح کی حرکتوں کی روک تھام ضروری ہے۔

تحریک انصاف کے رہنما کا کہنا تھا کہ خواجہ آصف پر سیاہی پھینکنے کا عمل اور سابق وزیراعظم نوازشریف پر جوتا پھینکنے کے عمل میں شدت پسند عناصر ملوث ہیں۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف پر جوتا لگنے کے واقعے پر ردِ عمل دیتے ہوئے اسے غیر سیاسی عمل قرار دیا۔ شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ اس وقعے سے نواز شریف کی بے عزتی ہوئی ہے، تاہم وہ اس حرکت کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان قائرہ نے نواز شریف پر جوتا پھینکے کے معاملے پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا کہ اس وقعے کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے اور تمام جماعتوں کو اس کی مذمت کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ ہمارا سیاسی بیانیہ کیا بن گیا، اور ہمارا اظہارِ خیال کیا ہوگیا اس بارے میں بھی ہمیں سوچنے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر اس طرح کے واقعات ہوتے رہیں گے تو پھر عوامی نمائندے اپنی سیکیورٹی حصار کو بڑھا دیں گے، اس طرح وہ عوام سے گھل ملنے سے محروم ہوجائیں گے جس کے بعد پھر میڈیا اور عوام ہی یہ کہیں گے کہ لیڈر عوام سے دور ہوگئے ہیں۔

تازہ ترین جوتا پھیکنے کا واقعہ 28 فروری کو اسمبلی میں پیش آیا جب پی ٹی آئی کے رکن ارباب جہانداد نے بلدیو کمار کو جوتا دے مارا

لاہور میں 4 مارچ 2017 کو عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کو ریلوے اسٹیشن پر نامعلوم شخص نے جوتا دے مارا تھا۔

24 اپریکل 2014 کو لاہور میں ہی ساوتھ ایشیا لیبر کانفرنس کے افتتاح کے دوران وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف پر ایک صحافی نے جوتا اچھال دیا تھا۔

ماضی میں بھی سیاستدانوں کو جوتے کا نشانہ بنایا جا چکا ہے مارچ 2013 میں سابق فوجی حکمران ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو سندھ ہائی کورٹ میں ضمانت کے لیئے پیشی کے موقع پر ایک وکیل نے ان کی طرف جوتا اچھالا تھا۔

اس کے علاوہ سابق وزیر اعلٰی سندھ ڈاکٹر ارباب رحیم کو اپریل 2008 میں بطور نو منتخب رکن صوبائی اسمبلی کا حلف لینے کے بعد سندھ اسمبلی کے باہر جوتے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

واضح رہے کہ کسی سیاستدان پر جوتا پھینکے جانے کا پہلا واقعہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے ساتھ پیش آیا۔ان پر عراق میں اس وقت جوتا پھینکا گیا جب وہ خطاب کر رہے تھے۔

لاس ویگاس میں 11 اپریل 2014 کو سابق امریکی وزیر خارجہ اور سابق امریکی خاتون اوّل ہلیری کلنٹن پر یہاں ایک پروگرام کے دوران ایک خاتون نے جوتا اچھال دیا۔

جبکہ بھارت کے بھی کئی سیاستدان اس جوتا کلب میں شامل ہیں۔ عام آدمی پارٹی کے سربراہ اروند کیجریوال پر کئی مواقع پر جوتا پھینکے جانے کے واقعات پیش آئے۔ گزشتہ سال ستمبر کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی پر بھی ریلی کے دوران جوتا پھینکا گیا تھا۔
Share/Save/Bookmark