امن و امان کی صورتحال افغانستان کا سب سے بڑا چیلنج

یران کی جانب سے افغانستان میں قیام امن و سلامتی اور پائیدار ترقی کی بھرپور حمایت جاری رہے گی
غلام علی خوشرو نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام افغان دھڑوں کے درمیان قومی مفاہمت اور امن کے عمل سے متعلق مشترکہ کاوشوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے
تاریخ شائع کریں : شنبه ۱۹ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۰:۵۰
موضوع نمبر: 317174
 
اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب نے امن و امان کی صورتحال کو افغانستان کا سب سے بڑا چیلنج قرار دیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب غلام علی خوشرو نے سلامتی کونسل کی خصوصی نشست سے خطاب کرتے ہوئے امن کے فقدان کو افغانستان کی سب سے بڑی مشکل قرار دیا اور یہ بات زور دے کر کہی کہ تہران نے ہمیشہ افغانستان میں امن و استحکام کے قیام کی حمایت کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جنوری 2018 میں کابل اور افغانستان کے دیگر شہروں میں دہشتگردی کے ہولناک واقعات رونما ہوئے۔داعش سمیت دیگر دہشتگرد گروہوں کی جانب سے غیرانسانی کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہا اور اس کے ساتھ حکومتی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان بھی جھڑپیں جاری رہیں۔

غلام علی خوشرو نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران تمام افغان دھڑوں کے درمیان قومی مفاہمت اور امن کے عمل سے متعلق مشترکہ کاوشوں کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی قومی اتحاد کی حکومت داعش، طالبان، القاعدہ اور ان سے وابستہ تمام دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر ہے لہذا عالمی برادری کا فرض ہے کہ اس مقصد کے لئے کابل حکومت کی حمایت کرے۔

غلام علی خوشرو نے افغانستان کے ساتھ علاقائی تعاون کو علاقے میں امن اور اقتصادی صورت حال کی بہتری کے لئے اہم ترجیح اور اہم قدم قرار دیا اور کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ افغانستان کو رقابت کے میدان کے بجائے ترقی کے ذریعے امن و استحکام کے قیام کی نظر سے دیکھے۔

اقوام متحدہ میں تعینات اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل مندوب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے افغانستان میں قیام امن و سلامتی اور پائیدار ترقی کی بھرپور حمایت جاری رہے گی۔

ایرانی مندوب نے کہا کہ ایران گزشتہ چند دہائیوں سے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے۔ ایران نے گزشتہ برسوں میں افغانستان میں 300 ترقیاتی اور فلاحی منصوبوں میں حصہ لیا ہے جس کی لاگت 50 کروڑ ڈالر ہے۔

ایران نے بارہا اعلان کیا ہے کہ وہ افغانستان کی تعمیرنو اور اس ملک کی سیکورٹی کی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے اپنی کسی کوشش سے دریغ نہیں کرے گا اور اس وقت بھی بیس لاکھ سے زائد افغان پناہ گزیں ایران میں رہائش پذیر ہیں جنھیں ہر طرح کی سہولتیں بھی فراہم کی گئی ہیں اور افغان حکام نے افغان حکومت اور قوم کے لئے ایران کی جاری حمایت و مدد کی بارہا قدردانی بھی کی ہے۔
Share/Save/Bookmark