ترکی کی شامی علاقے عفرین پر وحشیانہ بمباری

عفرین پر ترکی کے حملے میں اب تک لگ بھگ تین ہزار افراد مارے جاچکے ہیں
دمشق میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشت گرد گروہ جبہت النصرہ کے مختلف دھڑوں نے لاذقیہ اور حما میں شامی فوج کے مورچوں پر حملے کی کوشش کی جسے بری طرح ناکام بنا دیا گیا۔
تاریخ شائع کریں : پنجشنبه ۱۷ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۰۸:۵۵
موضوع نمبر: 316782
 
ترکی کے جنگی طیاروں نے شام کے شہر عفرین کے علاقہ شران میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد کرد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ عفرین پر ترکی کے حملے کے نتیجے اب تک 2940 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

تقریب خبررساں ایجنسی نے المیادین کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ ترکی کے جنگی طیاروں نے شام کے شہر عفرین کے علاقہ شران میں بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں متعدد کرد ہلاک اور زخمی ہوگئے ہیں۔ عفرین پر ترکی کے حملے کے نتیجے اب تک 2940 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترکی نے شامی کردوں کے خلاف 20 جنوری کو فوجی کارروائی کا آغاز کیا ترکی کو اس کارروائی میں شام کے باغی گروہ آزاد سیرین فوج کی حمایت بھی حاصل ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ کرد دہشت گرد تنظیمیں ترکی کے لئۓ خطرہ ہیں اور ان کا قلعہ قمع ترکی کی ترجیحات میں شامل ہیں۔

شامی فوج نے اپنے ملک کے مغربی صوبے لاذقیہ اور حماہ میں دہشت گردوں کے حملوں کو پسپا کر دیا۔

 دمشق میں عسکری ذرائع نے بتایا ہے کہ دہشت گرد گروہ جبہت النصرہ کے مختلف دھڑوں نے لاذقیہ اور حما میں شامی فوج کے مورچوں پر حملے کی کوشش کی جسے بری طرح ناکام بنا دیا گیا۔

 شامی فوج کے جوابی حملوں میں دہشت گردوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھا تے ہوئے علاقے سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
ایک اور اطلاع کے مطابق شامی فوج نے غوطہ شرقی میں اپنے مورچے مستحکم کرنے کے بعد المحمدیہ سٹی کے اطراف کے نواحی علاقوں کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرا لیا۔

دوسری جانب دہشت گردوں نے ایک بار پھر غوطہ شرقی سے دمشق کے نواحی علاقوں القصاع، ابن سینا ہاسپٹل اور العباسین اسکوائر پر راکٹ برسائے۔

 دریں اثنا اطلاعات ہیں کہ جنوب ادلب کے مضافاتی علاقے میں دہشت گردوں کے دو گروہوں کے درمیان جاری جھڑپوں میں آزادی محاذ نامی دہشت گرد گروہ کے متعدد عناصر ہلاک ہو گئے۔
Share/Save/Bookmark