سعودی عرب میں مخلوط میوزیکل کنسرٹ منعقد کئے جانے کی منظوری

ناچ گانے کے مخلوط پروگرام میں مل کر ناچنے اور کمر لچکانے کی اجازت نہیں
سعودی عرب میں مذہبی تعلیمات پر عمل امور پر سخت نظر رکھنے اور اس پر سزا دینے والی بدنام زمانہ کونسل کو ولی عہد محمد بن سلمان نے جب سے انٹرٹینمنٹ کونس میں تبدیل کیا ہے، اس شعبے میں بھی اس نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کونسل کے ارکان کو دین و دنیا دونوں کو سنوارنے میں مہارت حاصل ہے۔
تاریخ شائع کریں : چهارشنبه ۱۶ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۳:۵۷
موضوع نمبر: 316670
 
سعودی عرب میں مذہبی تعلیمات پر عمل امور پر سخت نظر رکھنے اور اس پر سزا دینے والی بدنام زمانہ کونسل کو ولی عہد محمد بن سلمان نے جب سے انٹرٹینمنٹ کونسل میں تبدیل کیا ہے، اس شعبے میں بھی اس نے اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس کونسل کے ارکان کو دین و دنیا دونوں کو سنوارنے میں مہارت حاصل ہے۔

اس کی ایک مثال سعودی عرب میں مجوز موسقی پروگرام ہے جس میں خواتین اور مرد ایک ساتھ مصری فنکار تامر حسنی کے گانے سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ یہ موسیقی پروگرام اس مہینے کے آخر میں ہونے والا ہے اور اس کے ٹکٹ کے لئے سعودی عرب کے جوان لڑکے اور لڑکیا لمبی لمبی قطاریں لگا رہے ہیں۔

خود کو خادمین حرمین شریفین کہنے والے سعودی حکام نے 8 شرطوں کے ساتھ پہلی بار مخلوط  موسیقی پروگرام کے انعقاد کی اجازت دی ہے جس میں ایک شرط یہ ہے کہ موسیقی پروگرام میں شریک خواتین اور مرد نہ تو ناچيں گے اور نہی کمر لچکائیں گے یا چھومیں گے۔ اس شرط  سوشل میڈیا پر جم کر مذاق اڑایا جا رہے کیونکہ یہ پروگرام ہی ناچ گانے کا ہے۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے بہت ہی مقدس اور پاک مکہ اور مدینہ سے متعلق ملک میں پہلی بار خواتین اور مرد ایک ساتھ موسقی پروگرام میں شریک ہوں گے، یہ وہی ملک ہے جہاں سختی کے ساتھ موسیقی کو حرام کہا جاتا تھا اور پر کوڑے مارے جاتے تھے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے مذہبی گروہوں کو بری طرح کمزور کر دیا ہے اور اس میں ولی عہد کے اصلاحاتی اقدام کو روکنے کی طاقت نہیں ہے جس کا اس ملک کا جوان طبقہ استقبال کر رہا ہے اور اسی لئے وہ لمبی لمبی قطاروں میں کھڑے ہوکر ٹکٹ خرید رہے ہیں۔

انٹرٹینمنٹ کونسل نے ناچنے اور چھومنے پر پابندی کے ساتھ ہی 12 سال کے کم عمر کے بچوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، اس کے ساتھ یہ بھی شرط  ہے کہ ایک شخص کو صرف تین ٹکٹ ملیں گے اور خواتین اور مرد الگ الگ راستوں سے ہال میں داخل ہوں گے، سیگار نوشی نہیں کر سکتے، شریفوں جیسے کپڑے پہن کر آنا ہوگا اور ہال کے اندر کھانے پینے پر بھی پابندی عائد ہے۔
Share/Save/Bookmark