کشمیر میں نوجوانوں کے قتل کے بعد مظاہرے شروع

ہڑتال کا اعلان/ اسکول اور انٹرنیٹ سروس بند/ فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری
آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٹ پتلی انتظامیہ، بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز معصوم شہریوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔
تاریخ شائع کریں : سه شنبه ۱۵ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۱:۴۹
موضوع نمبر: 316378
 
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی جانب سے ضلع شوپیاں میں 6 کشمیری شہریوں کی ہلاکت کے بعد سری نگر، شوپیاں اور پلوامہ سمیت دیگر اضلاع میں ہزاروں کشمیری مظاہرین ہڑتال کے اعلان کے بعد سڑکوں پر نکل آئے اور فورسز کے ساتھ جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بھارتی انتظامیہ اور احتجاجی مظاہروں میں شدت کے پیش نظر اسکولوں کو بند اور انٹرنیٹ سروس کو معطل کردیا گیا۔

ایک پولیس اہلکار کے مطابق کشمیر میں پولیس اور بھارتی فوجیوں سے جھڑپوں میں زبردست شدت آگئی جبکہ مظاہرین نے گھر میں رہنے کے احکامات کو نظر انداز کرکے سڑکوں کا رخ کیا۔

ضلع شوپیاں میں اتوار کی شب حالات اس وقت کشیدہ ہوئے جب بھارتی فوجیوں نے چیک پوسٹ کے نزدیک کار میں سوار چار کشمیریوں پر فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔

بھارتی فوج کے ترجمان کرنل راجیش کالیہ نے دعویٰ کیا کہ ’چیک پوسٹ کے پاس مبینہ چار عسکریت پسندوں سے مقابلہ ہوا جس میں ایک ہلاک ہوگیا اور اس کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ دیگر تین عسکریت پسندوں کی لاشیں چیک پوسٹ سے تھوڑے فاضلے پر کھڑی کار سے برآمد کی گئیں‘۔

تاہم پولیس نے بھارتی فوج کے دعوے کی تصدیق کے لیے تحقیقات شروع کردیں۔

بعدازاں پولیس کو ایک علحیدہ کار میں ایک کشمیری کی لاش ملی جبکہ پولیس کے مطابق انہوں نے گزشتہ روز چھٹی لاش برآمد کی جس کے قبضے سے کوئی اسلحہ برآمد نہیں ہوا۔

مقامی کشمیروں نے بتایا کہ ’شہید ہونے والے عسکریت پسند نہیں تھے‘۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی پولیس نے جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کو شوپیاں میں کشمیروں کی ہلاکت پر ہونے والے احتجاج کے دوران لعل چوک سے گرفتار کرلیا۔

محمد یاسین ملک کی سربراہی میں احتجاجی مظاہرہ ان کی رہائشی گاہ سے شروع ہوا لیکن بھارتی پیرا ملٹری فورسز نے بادشاہ پل پر روک کر انہیں دیگر ساتھیوں کے ہمراہ حراست میں لے لیا۔

دوسری جانب آل پارٹیز حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے شوپیاں میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کی ہلاکت کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کٹ پتلی انتظامیہ، بھارتی فوج اور پیراملٹری فورسز معصوم شہریوں کے قتل عام کے ذمہ دار ہیں۔

سری نگر میں اپنی رہائش گاہ سے ٹیلی فون پر خطاب میں ان کاکہنا تھا کہ بھارت مسئلہ کشمیر پر مختلف رائے کی تشکیل دینے میں ناکام ہو چکا ہے اور مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہیں۔

سیدعلی شاہ گیلانی، میرواعظ مولوی عمرفاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل جوائنٹ ریسسٹنس لیڈر شپ (جے آر ایل) نے عام ہڑتال کی اپیل کرتے ہوئے 7 مارچ کو ’چلو شوپیاں مارچ‘ کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کے اعداد و شمار میں کہا گیا تھا کہ حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کے قتل کے بعد سے بھارتی فورسز نے مقبوضہ وادی میں خواتین اور نوجوانوں سمیت وادی میں 515 افراد کو قتل کیا۔

کشمیر میں جاری اس تشدد میں گزشتہ دہائی میں تیزی سے کمی آئی تھی لیکن گزشتہ سال بھارتی فوج کے عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن آل آؤٹ کے نتیجے میں 350 اموات ہوئیں اور وادئ میں جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
Share/Save/Bookmark