مشرقی غوطہ کی آبادی دہشت گردوں سے آزادی چاہتے ہیں:بشار الاسد

عفرین کے علاقے میں عوامی فورسز کا داخل ہونا ایک طبعی امر ہے
شام کے صدر بشار الاسد نے ایرانی وزیر خارجہ کے خصوصی مشیر جابر انصاری سے ملاقات
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۱۴ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۷:۱۴
موضوع نمبر: 316296
 
شام کے صدر بشار الاسد نے ایرانی وزیر خارجہ کے خصوصی مشیر جابر انصاری سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد جو دمشق میں انجام پائی شام کے صدر نے اخباری نمائندوں کے ساتھ ایک نشست میں کہا کہ امریکہ کہ سرپرستی میں بننے والا نام نہاد داعش مخالف اتحاد عملی طور پر داعش کی ائیرفورس کا کام انجام دے رہا ہے۔

شام کے صدر کا کہنا تھا کہ جب دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے ایسے وقت میں شام کے خلاف ہونے والے میڈیا پروپیگنڈا کا اصل مقصد کہ جو انسانی حقوق کے بہانے انجام پارہا ہے، دہشت گردوں اور دہشت گردی کی حمایت کرنا ہے۔ بشار الاسد نے کہا کہ سیز فائر اور فوجی آپریشن میں کوئی تناقض نہیں ہے۔ مشرقی غوطہ میں ہونے والا آپریشن دہشت گردی کے خلاف جنگ کا تسلسل ہے۔

شام کے صدر نے کہا کہ مشرقی غوطہ کی آبادی دہشت گردوں سے آزادی چاہتے ہیں اور اسی وجہ سے اس آپریشن میں عوام کیلئے امن گذرگاہیں بنائی گئی ہیں تاکہ وہ ان راستوں کے ذریعے حکومت کے زیرکنٹرول علاقے میں آ کر پناہ لے سکیں۔

کیمیائی حملوں کا مسئلہ بھی مغرب کا جھوٹا پروپیگنڈا اور جنگی چال ہے کہ جس کے ذریعے وہ شام کی فوج کے خلاف ہونے والے اپنے اقدامات کو جائز قرار دیتے ہیں۔ مغربی اتحاد داعش کی ائیرفورس ہے۔ یہ داعش مخالف نام نہاد اتحاد انتہائی بے شرمی کے ساتھ جبھہ النصرہ، داعش اور دوسرے دہشت گرد گروپس کی مدد کرتا ہے۔

بشار اسد نے کہا کہ عفرین کے علاقے میں عوامی فورسز کا داخل ہونا ایک طبعی امر ہے چونکہ شام کی فوج دوسروں علاقے میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن می مصروف ہے۔

بشار اسد نے ایرانی وزارت خارجہ کے معاون خصوصی سے ملاقات میں کہا کہ ہر قسم کے سیاسی راہ حل کے بارے میں شامی قوم کی رائے آخری فیصلہ ہو گی۔ شام کے صدر نے ترکی کہ فوجی حملے کے بارے میں کہا کہ عفرین میں ترکی کہ فوجی نقل و حرکت اس ملک کی دشمنی کو ظاہر کرتی ہے، ترکی شام کے بارے میں اپنی معاندانہ سیاست کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
Share/Save/Bookmark