تہران: ایڈمیرل شمخانی کی فرانس کے وزیر خارجہ سے ملاقات

جوہری معاہدے کی شکست کے ساتھ عالمی مسائل کے مذاکراتی حل بھی ناکام ہوں گے
ایڈمیرل شمخانی:عالمی معاہدے کے مطابق تمام فریقین اور عالمی برادری کو اس کے تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کرنا چاہیئے.
تاریخ شائع کریں : دوشنبه ۱۴ اسفند ۱۳۹۶ گھنٹہ ۱۶:۱۷
موضوع نمبر: 316282
 
اعلی ایرانی سیکورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ جوہری معاہدے میں امریکہ کو شامل رکھنے پر یورپ کا نرمی برتنی کا رویہ درست نہیں بلکہ اس کا مطلب ڈونلڈ ٹرمپ کی اعصابی جنگ کے سامنے ھتھیار ڈالنا ہے.

ان خیالات کا اظہار ایڈمیرل اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے پیر کے روز تہران میں فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

ایڈمیرل اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے دونوں ممالک کے درمیان اچھے سیاسی اور اقتصادی تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے جوہری معاہدے کے بعد بینکاری تعلقات کی رکاوٹوں کو دور کرنے پر زور دیا.

ایڈمیرل شمخانی نے کہا کہ ہر عالمی معاہدے کے مطابق تمام فریقین اور عالمی برادری کو اس کے تحفظ کے لئے بھرپور کوشش کرنا چاہیئے اور دوسرے فریقین کی خلاف ورزیوں پر اہمیت نہ دینا قابل قبول نہیں ہے.

انہوں نے جوہری معاہدے پر یورپی فریقین کے وعدوں کے مکمل نفاذ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جوہری معاہدے کی شکست کے ساتھ دوسرے بین الاقوامی معاہدے اور عالمی مسائل کے مذاکراتی حل بھی ناکام ہوں گے.

انہوں نے عراق اور شام میں دہشتگردی کی ناکامی کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر ایران دہشتگردوں سے مقابلہ نہ کرے تو یورپی ممالک سمیت فرانس بدامنی اور عدم استحکام کے مسائل کا شکار ہوں گے.

انہوں نے فرانس میں ایران کے خلاف دہشتگردی گروہوں کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانس کی حکومت کی جانب سے ہزاروں بے گناہ ایرانی عوام کے قتل عام کرنے والے دہشتگردوں سے مقابلہ نہ کرنا ان کی عالمی ذمہ داری کا متضاد ہے جیسے اقدامات دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کے مفاد میں نہیں ہے.

اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری جنرل نے ملکی دفاعی طاقت سمیت میزائل صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی دفاعی طاقت کسی بھی ملک کے لئے کوئی خطرہ نہیں اور ملک کی سیکورٹی ضروریات کے مطابق ہے.

انہوں نے یمنی بحران کے حوالے سے بعض یورپی ممالک کی حالیہ قرارداد کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یورپی اور امریکی حکام کی جانب سے اس ملک کے مظلوم عوام کے محاصرے پر خاموشی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وحشیانہ اقدامات کی حمایت کی علامت ہے.

انہوں نے شام کی حالیہ سیاسی کامیابیوں کے حوالے سے کہا کہ اگر مسلح دہشتگردوں اور باغیوں کی حمایت کا خاتمہ ہوئے تو شامی فریقین کے درمیان مذاکرات کے ساتھ اس ملک میں سیکورٹی قائم ہوجائے گی.

فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا کہ جوہری معاہدے کی کامیابی کے بعد اسلامی جمہوریہ ایران اور فرانس کے درمیان سیاسی اور اقتصادی تعلقات کا مستقبل روشن ہے.

لودریاں نے جوہری معاہدے پر ایران کے فعال کردار اور وعدوں کے مکمل نفاذ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی حکومت تمام فریقین کی جانب سے اس عالمی معاہدے پر عملدرآمد کرنے پر زور دے کر امریکہ کی خلاف ورزیوں کی مخالفت کر رہی ہے.

انہوں نے کہا کہ ہم قریب مستقبل میں دونوں ممالک کے درمیان بینکاری تعلقات کی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں گے.

تفصیلات کے مطابق، فرانس کے وزیر خارجہ جان ایف لودریاں اعلی ایرانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات، علاقائی تبدیلیوں اور عالمی مسائل پر مذاکرات کے لئے پیر کی علی الصبح اسلامی جمہوریہ ایران کے سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے.

دورہ ایران کے موقع پر فرانسیسی وزیر خارجہ ایک اعلی سطحی وفد کی قیادت کررہے ہیں. وہ اپنے ہم منصب محمد جواد ظریف کے علاوہ اعلی ایرانی قیادت بشمول صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی سے ملاقاتیں کریں گے.
Share/Save/Bookmark